سعودی عرب میں ملازمتوں کے لیے ڈگری کے ساتھ ساتھ عملی مہارتوں کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI) کی تصدیق شدہ مہارت رکھنے والے امیدوار آجروں کی پہلی پسند بنتے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے، مانسہرہ کے شہریوں کی متفقہ رائے
تعلیمی پلیٹ فارم Coursera کی رپورٹ 2026 کے مطابق سعودی عرب میں 99 فیصد آجر ابتدائی سطح کی بھرتیوں میں مہارت پر مبنی طریقہ اپناتے ہیں، جبکہ 79 فیصد آجر ایسے امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں جس کے پاس جنریٹو اے آئی کی مہارت ہو، چاہے دوسرے امیدوار کے پاس زیادہ تجربہ ہی کیوں نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق 82 فیصد سعودی طلبا ایسے پروگراموں میں داخلہ لینے کے خواہاں ہیں جن میں اے آئی مائیکرو کریڈینشلز شامل ہوں، جبکہ 98 فیصد آجر ان اسناد کے حامل گریجویٹس کو بہتر ابتدائی تنخواہ دینے کے لیے تیار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث صرف ڈگری کافی نہیں رہی، بلکہ عملی مہارت، پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت ملازمت کے حصول میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب اقوامِ متحدہ کی خلائی کمیٹی کا فرسٹ نائب چیئرمین منتخب
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مستقبل قریب میں اے آئی ماڈلنگ، پرامپٹ انجینئرنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، اے آئی گورننس اور اے آئی سیکیورٹی جیسے شعبوں میں روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔














