آزاد کشمیر کے امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی راجہ کفیل احمد نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی تحریک کا اب عوامی حقوق سے تعلق نہیں رہا، ضروری ہے کہ آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات ہوں۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئےراجہ کفیل احمد نے آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال، جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک، مہاجرین کی نشستوں کے تنازع اور آئندہ انتخابات سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہاکہ جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک ابتدا میں عوامی حقوق کی تحریک تھی، تاہم بعد ازاں اس میں آئینی اور سیاسی مطالبات شامل کیے گئے جس کے باعث اس کی نوعیت تبدیل ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آئینی نوعیت کا ہے جسے کسی دباؤ کے تحت حل نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی حقوق کی تحریک کا آغاز کیسے ہوا؟
راجا کفیل احمد نے کہاکہ جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک 3 مراحل پر مشتمل رہی۔ اس کا آغاز مئی 2023 میں راولاکوٹ، پونچھ اور عباسپور میں آٹے کی قلت کے خلاف احتجاج سے ہوا۔
انہوں نے کہاکہ اسی عرصے میں آزاد کشمیر میں سیاسی تبدیلی آئی اور چوہدری انوار الحق وزیراعظم بنے۔ یہ آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ وہ 48 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوگئے۔
راجا کفیل احمد نے کہاکہ وزیراعظم بننے کے بعد چوہدری انوار الحق نے، جو اس سے قبل فوڈ کے شعبے سے بھی وابستہ رہے تھے، یہ مؤقف اختیار کیاکہ آٹے کی فراہمی کے نظام میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی ہے۔ اسی بنیاد پر سبسڈی والے آٹے کی فراہمی روکنے اور اس کے اجرا پر پابندی لگانے کی بات کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مکمل فیصلے سے قبل ہی پونچھ میں احتجاج شروع ہوگیا۔ بعد ازاں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ کابینہ اجلاس میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم خبر لیک ہونے اور عوامی دباؤ کے باعث حکومت فوری طور پر قیمتیں نہ بڑھا سکی۔
میرپور میں لوڈشیڈنگ، پونچھ میں آٹے کا بحران، کب کیا ہوا؟
انہوں نے کہاکہ اسی دوران میرپور ڈویژن میں 18 سے 19 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری تھی، جبکہ پونچھ ڈویژن میں آٹے کی قیمتوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ یہی احتجاجی کمیٹیاں بعد میں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی صورت اختیار کر گئیں۔
ان کے مطابق حکومت نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے اور یقین دہانی کرائی کہ آٹے کی سپلائی اور قیمتوں کو متوازن بنایا جائے گا، جبکہ بجلی کے نرخوں اور لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر بھی غور کیا جائے گا۔ تاہم بعد میں بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا، جس پر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر گیا۔
’مئی 2024 کا لانگ مارچ اور حکومتی پسپائی‘
راجا کفیل احمد نے بتایا کہ حکومتی یقین دہانیوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مئی 2024 میں مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا۔ کوہالہ کے مقام پر یہ احتجاج شدت اختیار کر گیا اور بعض ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔
انہوں نے کہاکہ ان حالات کے بعد حکومت پاکستان نے نوٹس لیا اور وزیراعظم پاکستان سمیت اعلیٰ سطح پر اجلاس منعقد ہوئے، جن کے نتیجے میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا۔ بجلی کا نرخ 3 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا جبکہ سبسڈی والے آٹے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی کی گئی۔
’4 مطالبات سے 38 نکات تک‘
انہوں نے کہاکہ ابتدا میں تحریک کے صرف چند مطالبات تھے، تاہم بعد میں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں مسلسل اضافہ کیا۔ پہلے 8، پھر 28 اور بعد ازاں یہ مطالبات 38 نکات تک پہنچ گئے۔
ان کے مطابق 29 ستمبر 2025 کو ایک بار پھر مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا گیا، جس کے بعد وفاقی سطح پر کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس میں قمر زمان کائرہ، راجا پرویز اشرف سمیت وفاقی وزرا اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت شریک ہوئی۔
مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ کیسے سامنے آیا؟
راجا کفیل احمد نے کہاکہ 4 اکتوبر 2025 سے قبل مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ شامل نہیں تھا، بعد ازاں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسے اپنے مطالبات میں شامل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں ایکشن کمیٹی، آزاد کشمیر حکومت اور وفاق کے نمائندے شامل تھے، کمیٹی کے متعدد اجلاس بھی ہوئے اور طے پایا کہ وزارت قانون اور وزارت خارجہ اس حوالے سے اپنی قانونی رائے دیں گی۔
’مہاجرین کی نشستوں کا مطالبہ انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے‘
راجا کفیل احمد نے کہاکہ جیسے ہی انتخابات قریب آئے، جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 31 مئی کی ڈیڈ لائن دے دی اور اعلان کیاکہ اگر مہاجرین کی نشستوں کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لانگ مارچ کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بالکل، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تحریک عوامی حقوق تک محدود تھی تو تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، تاجروں اور مختلف طبقات نے اس کی حمایت کی، لیکن جب آئینی اور سیاسی معاملات کو ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا تو اس کی نوعیت تبدیل ہو گئی۔
’اگر عوام ساتھ ہیں تو الیکشن لڑیں‘
راجا کفیل احمد نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے کہاکہ اگر انہیں یقین ہے کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے تو وہ انتخابات میں حصہ لیں اور عوامی مینڈیٹ حاصل کریں۔
ان کے مطابق آئینی اصلاحات اور مہاجرین کی نشستوں سمیت تمام مطالبات اسمبلی کے فورم پر اٹھائے جا سکتے ہیں، لیکن انتخابی عمل سے باہر رہتے ہوئے دباؤ کے ذریعے آئینی تبدیلیاں کرانے کی کوشش مناسب نہیں۔
’مہاجرین کی نشستوں پر قومی اتفاق رائے‘
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں کے اجلاسوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
ان کے مطابق اگر پاکستان میں مقیم لاکھوں کشمیری مہاجرین سے ووٹ کا حق واپس لیا گیا تو اس سے غلط تاثر پیدا ہو گا اور مسئلہ کشمیر کے بیانیے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
’مہاجرین ارکان اسمبلی کے فنڈز کی حقیقت‘
راجا کفیل احمد نے کہاکہ یہ تاثر درست نہیں کہ مہاجرین ارکان اسمبلی کو غیر معمولی ترقیاتی فنڈز دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں انہیں 25 سے 50 لاکھ روپے تک فنڈز ملتے تھے تاکہ پاکستان میں موجود کشمیری مہاجر بستیوں کے چھوٹے مسائل حل کیے جا سکیں۔ بعد میں یہ رقم بڑھی اور قریباً 2 سوا 2 کروڑ تک پہنچی، تاہم مجموعی ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں یہ فنڈز نہایت محدود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر کہیں کرپشن یا فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات ہیں تو ان کے ازالے کے لیے ادارے اور قوانین موجود ہیں، لیکن اسے بنیاد بنا کر مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ مناسب نہیں۔
’آل پارٹیز کانفرنس اور سپریم کورٹ کا مؤقف‘
راجا کفیل احمد کے مطابق آزاد کشمیر میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کی مخالفت کی۔
ان کے مطابق بعد ازاں اسمبلی نے بھی متفقہ قرارداد منظور کی اور حکومت نے سپریم کورٹ سے رہنمائی طلب کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئینی ترامیم صرف آئینی طریقہ کار کے تحت ہی کی جا سکتی ہیں اور کسی دباؤ کے تحت ایسے فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔
’9 جون کی کال کا جواز نہیں بنتا تھا‘
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے آنے کے بعد جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے نو جون کے لانگ مارچ کا جواز باقی نہیں رہتا تھا، تاہم اس کے باوجود ہزاروں افراد کو سڑکوں پر لایا گیا۔
انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر احتجاج ختم کردیں اسی میں سب کی بھلائی ہے، کیوں کہ ریاست کو سرینڈر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔












