امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات جلد عام کیے جانے کا امکان ہے، تاہم مستقل جنگ بندی کے لیے اہم معاملات پر مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری معاہدے کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں، جبکہ مکمل متن چند روز میں باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ: تعمیرِ نو و ترقیاتی فنڈز سمیت تہران کو سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ امریکی حکام کے مطابق سمجھوتے کے تحت ایران کو معاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی فروخت کی اجازت دی جائے گی۔
رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے دستخط کیے گئے مفاہمتی یادداشت میں اپریل میں اعلان کی گئی جنگ بندی کو مزید 60 دن تک برقرار رکھنے کی تجویز شامل ہے تاکہ دونوں ممالک مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کرسکیں۔
معاہدے کے تحت امریکا ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا، جبکہ تہران آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں اور دیگر بحری آمدورفت کو بحال کرے گا۔ یہ راستہ خطے میں تیل کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل کے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ زیر بحث آئے گا، تاہم ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت جیسے معاملات فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر اسرائیل کے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل نے مذاکرات میں براہ راست حصہ نہیں لیا اور جنگ بندی معاہدے سے خود کو فاصلے پر رکھا ہے، جس سے اس بات پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ سمجھوتہ کتنی دیر برقرار رہ سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
رائٹرز کے مطابق جنگ کے دوران ایران اور لبنان سمیت خطے کے مختلف ممالک متاثر ہوئے اور 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران پر پابندیاں نرم ہوسکتی ہیں، منجمد اثاثے بحال ہوسکتے ہیں اور خلیجی ممالک کی معاونت سے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ عالمی شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی بحالی سے قبل صورتحال کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔ مستقل امن کے لیے آئندہ 60 دن کے مذاکرات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔














