اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کا آغاز مثبت ہوا تاہم دوپہر تک فروخت کے دباؤ کے نتیجے میں انڈیکس میں تقریباً 175 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
صبح 10:40 بجے کے وقت بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 180,771.69 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا، جو 378.72 پوائنٹس یعنی 0.21 فیصد اضافہ ظاہر کر رہا تھا۔
مارکیٹ میں ابتدائی خریداری کے بعد دباؤ بڑھ گیا اور انڈیکس منفی زون میں چلا گیا، دوپہر 12 بجے
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کاروبار کے آغاز میں مندی، دوپہر تک انڈیکس میں 1,950 پوائنٹس کا اضافہ
مارکیٹ میں سیمنٹ، کیمیکل، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، حبیب بینک اور الائیڈ بینک جیسے اہم شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is down at midday 🔻
⏳ KSE 100 is negative by -175.01 points (-0.1%) at midday trading. Index is at 180,217.97 and volume so far is 293.06 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/rDDT4aJzyK— Investify Pakistan (@investifypk) June 17, 2026
اہم پیش رفت کے طور پر، اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مئی 2026 میں 459 ملین ڈالر سرپلس میں رہا، جس کی رپورٹ بدھ کو جاری کی گئی۔
گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ ساز تیزی جاری رہی، جب سرمایہ کاروں نے شرح سود برقرار رہنے کے فیصلے کے بعد جارحانہ خریداری جاری رکھی۔
علاقائی کشیدگی میں کمی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کی توقعات نے بھی مارکیٹ کے جذبات کو مزید بہتر کیا۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
کے ایس ای 100 انڈیکس 3,353.15 پوائنٹس یعنی 1.89 فیصد بڑھ کر 180,392.98 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ یہ خبریں سامنے آئیں کہ ایرانی تیل جلد عالمی مارکیٹ میں آ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں کمی کا امکان پیدا ہوا ہے۔
اسی وجہ سے بانڈ ییلڈز بھی نیچے آئے جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی نئی قیادت کے حوالے سے مارکیٹس محتاط رہیں۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئے، جو مارچ میں امریکا ایران تنازع کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
ایک سینیئر امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا ایران تیل پر پابندیوں میں نرمی کرے گا، جس کے بعد اضافی لاکھوں بیرل تیل کی عالمی سپلائی متوقع ہے۔
امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی دیکھی گئی جبکہ ایشیائی منڈیوں میں بھی شرحیں نیچے آئیں۔ ۔
جاپان کے 10 سالہ بانڈ ییلڈز 1.5 بیسز پوائنٹس کمی کے بعد 2.63 فیصد اور آسٹریلیا کے 10 سالہ ریٹس تقریباً 5 بیسز پوائنٹس کم ہو کر 4.787 فیصد رہ گئے۔
ایشیا میں فیوچرز معمولی مثبت رہے، جبکہ تائیوان اور جنوبی کوریا کی چپ بنانے والی کمپنیوں پر مشتمل مارکیٹس میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
جاپان کا نکی 0.4 فیصد بڑھا، جبکہ ہانگ کانگ اور شنگھائی کی مارکیٹس مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔











