وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اقتصادی سروے کسی بھی مالی سال کی مجموعی معاشی کارکردگی کا عکاس ہوتا ہے اور پاکستان نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود رواں مالی سال میں بہتر معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں اقتصادی سروے 26-2025 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں ملک کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ مون سون کی شدید بارشوں نے معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا جبکہ عالمی سطح پر بھی غیر معمولی حالات پیدا ہوئے۔
مزید پڑھیں: وزیرِاعظم کو پاکستان اکنامک سروے 26-2025 پیش، معاشی کارکردگی کی رپورٹ کا باضابطہ اجرا
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کے باعث عالمی تجارتی ماحول میں بے یقینی پیدا ہوئی، جس کے اثرات بین الاقوامی معیشتوں پر بھی مرتب ہوئے۔ تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا اور معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی اور اندرونی و بیرونی دباؤ کے باوجود قومی معیشت نے مثبت اشاریے دکھائے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔ توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔
Economic Survey 2025-26 by nisar.khan74
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی و تجارتی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ اقتصادی سروے میں مختلف شعبوں کی کارکردگی، حکومتی پالیسیوں کے نتائج اور مستقبل کی معاشی سمت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: حکومت نے اقتصادی سروے 2025-26 جاری کردیا، جی ڈی پی میں اضافہ ریکارڈ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور مختلف جغرافیائی و تجارتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا اور اہم اقتصادی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مشکل حالات میں بھی معاشی استحکام کو برقرار رکھا اور متعدد شعبوں میں مثبت پیش رفت حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جو اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے اور مجموعی معاشی کارکردگی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح فی کس سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے معاشی اشاریوں میں بہتری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق پیٹرولیم سیکٹر نے بھی رواں مالی سال کے دوران بہتر کارکردگی دکھائی اور اس شعبے میں 5 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور پیٹرولیم کے شعبوں میں سرگرمیوں کے فروغ سے معیشت کو تقویت ملی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ جولائی سے مارچ تک کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا، جو بیرونی شعبے میں استحکام کی علامت ہے۔ ان کے بقول بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں بہتری معیشت کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں، مہنگائی مزید کم ہوگی، وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کردیا
انہوں نے زرعی شعبے کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں تقریباً 60 فیصد حصہ ہے، جس سے اس شعبے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو بیرونی ادائیگیوں اور مالی استحکام کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔














