قومی اقتصادی سروے : چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اقتصادی سروے کسی بھی مالی سال کی مجموعی معاشی کارکردگی کا عکاس ہوتا ہے اور پاکستان نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود رواں مالی سال میں بہتر معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں اقتصادی سروے 26-2025 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں ملک کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ مون سون کی شدید بارشوں نے معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا جبکہ عالمی سطح پر بھی غیر معمولی حالات پیدا ہوئے۔

مزید پڑھیں: وزیرِاعظم کو پاکستان اکنامک سروے 26-2025 پیش، معاشی کارکردگی کی رپورٹ کا باضابطہ اجرا

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کے باعث عالمی تجارتی ماحول میں بے یقینی پیدا ہوئی، جس کے اثرات بین الاقوامی معیشتوں پر بھی مرتب ہوئے۔ تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا اور معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھا۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی اور اندرونی و بیرونی دباؤ کے باوجود قومی معیشت نے مثبت اشاریے دکھائے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔ توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔

Economic Survey 2025-26 by nisar.khan74

 

وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی و تجارتی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ اقتصادی سروے میں مختلف شعبوں کی کارکردگی، حکومتی پالیسیوں کے نتائج اور مستقبل کی معاشی سمت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے اقتصادی سروے 2025-26 جاری کردیا، جی ڈی پی میں اضافہ ریکارڈ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور مختلف جغرافیائی و تجارتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا اور اہم اقتصادی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مشکل حالات میں بھی معاشی استحکام کو برقرار رکھا اور متعدد شعبوں میں مثبت پیش رفت حاصل کی۔

انہوں نے بتایا کہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جو اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے اور مجموعی معاشی کارکردگی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح فی کس سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے معاشی اشاریوں میں بہتری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق پیٹرولیم سیکٹر نے بھی رواں مالی سال کے دوران بہتر کارکردگی دکھائی اور اس شعبے میں 5 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور پیٹرولیم کے شعبوں میں سرگرمیوں کے فروغ سے معیشت کو تقویت ملی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جولائی سے مارچ تک کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا، جو بیرونی شعبے میں استحکام کی علامت ہے۔ ان کے بقول بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں بہتری معیشت کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں، مہنگائی مزید کم ہوگی، وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کردیا

انہوں نے زرعی شعبے کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں تقریباً 60 فیصد حصہ ہے، جس سے اس شعبے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو بیرونی ادائیگیوں اور مالی استحکام کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ فی کس آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی۔ ملکی جی ڈی پی کی مالیت 126.9 کھرب روپے ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے نے 2.89 فیصد نمو حاصل کی جبکہ صنعتی شعبہ 3.51 فیصد اور خدمات کا شعبہ 4.09 فیصد بڑھا۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.11 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی جس نے مجموعی اقتصادی نمو میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ جولائی تا مارچ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 8.2 فیصد اضافے کے ساتھ 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے بیرونی شعبے کو نمایاں سہارا ملا۔

انہوں نے کہا کہ زرعی معیشت میں ڈیری اور لائیو اسٹاک کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس شعبے کی شرح نمو 3.75 فیصد رہی۔ مجموعی زرعی شعبے کی نمو 2.89 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ گنے، گندم اور چاول کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ کیسے منظور ہوتا ہے؟

وزیر خزانہ کے مطابق پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد ترقی ہوئی جبکہ توانائی اور صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار نمایاں رہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے، جو معاشی استحکام کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

اقتصادی سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری آئی ہے۔ جولائی تا مارچ مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک آگیا جبکہ بنیادی سرپلس 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ محصولات میں اضافہ اور سودی ادائیگیوں میں کمی اس بہتری کی اہم وجوہات رہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی معیشت کو درپیش مشکلات اور خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام کی بنیاد مضبوط کی ہے اور اب حکومت کی توجہ اس استحکام کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔

شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی، خواتین کی تعلیم میں بہتری کے آثار نمایاں

قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی کی شرح خواندگی 2024-25 کے دوران 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مردوں کی شرح خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 54 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو تعلیم کے شعبے میں بتدریج بہتری اور صنفی فرق میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔

سروے کے مطابق شہری علاقوں میں شرح خواندگی دیہی علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ شہری علاقوں میں مجموعی شرح خواندگی 74 فیصد ریکارڈ کی گئی، جہاں مردوں کی شرح 81 فیصد اور خواتین کی 68 فیصد رہی۔ اس کے برعکس دیہی علاقوں میں مجموعی شرح خواندگی 55 فیصد رہی، جس میں مردوں کی شرح 67 فیصد اور خواتین کی 44 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق دیہی خواتین کی شرح خواندگی میں سب سے زیادہ بہتری دیکھنے میں آئی، جو اس امر کی عکاس ہے کہ دور دراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

صوبائی سطح پر پنجاب 68 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا دونوں میں شرح خواندگی 58 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ بلوچستان 49 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ ملک کا سب سے کم خواندہ صوبہ رہا۔

اقتصادی سروے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی تفاوت بدستور موجود ہے۔ شہری پنجاب میں شرح خواندگی 78 فیصد رہی جبکہ دیہی سندھ میں یہ شرح محض 39 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیمی سہولیات اور مواقع کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان میں شرح خواندگی میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، تاہم علاقائی اور صنفی تفاوت اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کے مطابق خصوصاً دیہی خواتین کی تعلیم میں پیش رفت مستقبل میں قومی شرح خواندگی میں مزید اضافے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

صحت و غذائیت کے شعبے میں بہتری، اوسط عمر اور حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان کے صحت اور غذائیت کے شعبے میں اہم پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں اوسط عمر، حفاظتی ٹیکوں کی کوریج اور ماں و بچے کی صحت کے اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی، تیز رفتار آبادی میں اضافہ اور بیماریوں کا بڑھتا بوجھ بدستور بڑے چیلنجز ہیں۔

اقتصادی سروے کے مطابق 2018 میں پیدائش کے وقت اوسط عمر 66.5 سال تھی جو 2024 میں بڑھ کر 67.8 سال ہوگئی۔ ایچ آئی وی کی شرح 0.2 فیصد پر مستحکم رہی جبکہ زچگی کے دوران اموات کی شرح 2007 میں ایک لاکھ پیدائشوں پر 276 سے کم ہو کر 2019 میں 186 رہ گئی۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی صحت کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ 2018-19 میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج 68 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 73 فیصد ہوگئی۔ اسی عرصے میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات ایک ہزار پیدائشوں پر 41 سے کم ہو کر 35 اور شیر خوار بچوں کی شرح اموات 60 سے کم ہو کر 47 رہ گئی۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے مقابلے میں پاکستان کے صحت کے اشاریوں میں بہتری آئی ہے، تاہم اب بھی کئی شعبوں میں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا میں اوسط عمر 72.6 سال ہے جبکہ پاکستان میں یہ 67.8 سال ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح خطے میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات 23.2 فی ہزار جبکہ پاکستان میں 47 فی ہزار ہے۔

اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) خصوصاً صحت سے متعلق ہدف نمبر 3 کے حصول کی جانب پیش رفت جاری رکھی ہے۔ 2025 کی پائیدار ترقیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان 167 ممالک میں 140 ویں نمبر پر رہا۔

صحت کے شعبے میں انسانی وسائل میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2025 میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار 582 تک پہنچ گئی جو ایک سال قبل 3 لاکھ 19 ہزار 572 تھی۔ اسی طرح رجسٹرڈ دندان سازوں کی تعداد 42 ہزار 118 ہوگئی، جبکہ نرسوں کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 391 رہی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں صحت کے شعبے پر مجموعی سرکاری اخراجات بڑھ کر 942.2 ارب روپے ہوگئے جو گزشتہ سال 924.9 ارب روپے تھے۔ حکومت نے آئندہ برسوں میں صحت کے شعبے کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 12 جون کو، اقتصادی جائزہ کل جاری کیا جائے گا، پیٹرول پر ریلیف، 13 کھرب روپے ٹیکس ہدف مقرر

اقتصادی سروے میں غذائیت کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024-25 میں گھریلو سطح پر غذائی اشیا کے استعمال میں تبدیلی دیکھی گئی، جہاں دالوں، دودھ اور گوشت کے استعمال میں کمی جبکہ گھی کے استعمال میں اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ خوراک کی بڑھتی قیمتیں اور محدود آمدن قرار دی گئی ہے۔

سروے کے مطابق بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت دو سال سے کم عمر بچوں میں قد کی کمی (Stunting) کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس اور کم وزن بچوں کی پیدائش کی شرح میں 5.6 فیصد پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025-26 کے دوران فی کس یومیہ کیلوریز کی دستیابی 2,550 تک پہنچ گئی، جبکہ دودھ، گوشت، مچھلی، انڈوں اور دالوں کی دستیابی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

حکومت نے صحت کے شعبے میں نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ ہب، ذیابیطس کی روک تھام کا وزیراعظم پروگرام، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا قومی پروگرام، خون کی کمی میں کمی کے قومی منصوبے اور نرسنگ و مڈوائفری پالیسی فریم ورک سمیت متعدد نئی اصلاحات اور منصوبوں کا آغاز بھی کیا ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق حکومت صحت اور غذائیت کے شعبوں میں مزید بہتری، یونیورسل ہیلتھ کوریج کے فروغ اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp