وفاقی حکومت نے ٹیکس چوری کی روک تھام، انسانی مداخلت کے خاتمے اور ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ’فیس لیس ٹیکس نظام‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ٹیکس دہندگان کے مالی معاملات، اثاثوں اور طرزِ زندگی کے ڈیٹا کا خودکار تجزیہ کیا جائے گا اور مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی ہونے پر آڈٹ کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے پاکستان کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پر تفصیلی بریفنگ دی۔
چیئرمین ایف بی آر نے انکشاف کیا کہ مختلف ڈیٹا بیسز تک رسائی کے بعد انتہائی حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں قریباً 9 ہزار ایسے افراد موجود ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 750 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں، تاہم انہوں نے انکم ٹیکس کی مد میں صفر ادائیگی کی۔
راشد لنگڑیال نے بتایا کہ قریباً 98.9 فیصد ٹیکس ریٹرن فائلرز اپنی اصل آمدن کم ظاہر کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اپنی مہنگی جائیدادیں اور دیگر اثاثے بھی ٹیکس گوشواروں میں مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے ’فیس لیس ٹیکس سسٹم‘ متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت ٹیکس دہندہ اور ٹیکس افسر کے درمیان براہِ راست رابطہ ختم کر دیا جائے گا۔ اس نظام میں کوئی بھی افسر اپنی صوابدید پر کسی ٹیکس دہندہ کو نوٹس جاری نہیں کر سکے گا اور نہ ہی تحقیقات یا انکوائری میں ردوبدل کرنے کا اختیار رکھے گا۔
مزید پڑھیں:بجٹ27-2026: قائمہ کمیٹیوں نے ایف بی آر کے اہداف، نئے ٹیکسوں اور ریٹیلر اسکیم پر تحفظات ظاہر کردیے
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں، نادرا، بینکوں اور دیگر ڈیٹا بیسز سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کیا جائے گا۔ اگر کسی فرد کی ظاہر کردہ آمدن اور اس کے اثاثوں یا اخراجات میں نمایاں فرق پایا گیا تو سسٹم خودکار طور پر ’ریڈ فلیگ‘ جاری کرے گا اور متعلقہ کیس کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ فیلڈ دفاتر کے اختیارات محدود کر دیے جائیں گے۔ مستقبل میں ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر صرف ٹیکس وصولی، رجسٹریشن اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے ذمہ دار ہوں گے، جبکہ نوٹس جاری کرنے اور تحقیقات کے اختیارات مرکزی سطح پر موجود ہوں گے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ نئے نظام میں انسانی مداخلت کو کم سے کم رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مالیاتی جرائم اور مشکوک لین دین کی نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور پاکستان بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کے تحت لاکھوں مالی لین دین کی نگرانی صرف ٹیکنالوجی کی مدد سے کی جا رہی ہے اور اسی ماڈل کو ٹیکس نظام میں بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ایف بی آر کو مالی سال کے 9 ماہ میں 610 ارب روپے کا خسارہ، ہدف حاصل کرنا مشکل
اجلاس میں بعض ارکان نے نئے نظام کے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی جاوید حنیف نے کہا کہ یہ نظام لوگوں کو ’جکڑ‘ لے گا اور کاروباری طبقہ اس سے شدید متاثر ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ یہ نظام ٹیکس چوری کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ’فیس لیس ٹیکس نظام‘ کا پہلا مرحلہ اکتوبر 2026 میں شروع ہوگا، جس میں بڑے زیرو ٹیکس فائلرز کا آڈٹ کیا جائے گا۔ دوسرا مرحلہ مارچ 2027 جبکہ تیسرا مرحلہ اکتوبر 2027 میں نافذ کیا جائے گا۔ تاہم پیچیدہ نوعیت کے بعض کیسز میں مکمل فیس لیس آڈٹ ممکن نہیں ہوگا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین قائمہ کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ یہ ایک نیا نظام ہے اور ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ مکمل طور پر کامیاب ہو سکے گا یا نہیں، تاہم رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کو جدید ٹیکس نظام کی طرف جانا ہوگا اور مستقبل میں یہی نظام نافذ العمل ہوگا۔














