حکومت کی نئی سولر پالیسی، کیا اب پاکستان میں سولر پینل تیار ہوں گے؟

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت پاکستان نئی سولر پالیسی کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئی ہے، جس کے تحت ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا، صنعتی ترقی کو تقویت ملے گی اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب اہم پیشرفت ممکن ہوگی۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اس حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ نئی سولر پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کو صرف سولر پینلز کی اسمبلنگ تک محدود رکھنے کے بجائے مکمل مینوفیکچرنگ کی طرف منتقل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیکس کا خدشہ ختم، کیا اب سولر پینلز سستے ہوں گے؟

ان کے مطابق حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کررہی ہے جس کے نتیجے میں سولر پینلز، بیٹریاں اور سولر توانائی سے متعلق دیگر آلات مقامی سطح پر تیار کیے جا سکیں گے۔

ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ سے سولر پینلز کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی آئےگی، جس کا براہِ راست فائدہ صارفین کو سستی توانائی کی صورت میں ملے گا۔

ان کے مطابق اس عمل سے ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوگی اور صنعت میں جدت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بیٹری ٹیکنالوجی کو مستقبل کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہاکہ حکومت خاص طور پر توانائی ذخیرہ کرنے والے نظام پر توجہ دے رہی ہے۔

ان کے مطابق دن کے وقت سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کو بیٹریوں میں محفوظ کرکے رات کے اوقات میں استعمال کیا جا سکے گا، جس سے سولر توانائی کی افادیت مزید بڑھ جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی خواہش ہے کہ یہ بیٹریاں بھی پاکستان میں ہی تیار کی جائیں تاکہ مکمل سولر ویلیو چین ملک کے اندر قائم ہو سکے۔

معاونِ خصوصی نے مزید کہاکہ سولر پینلز اور بیٹریوں کی مقامی تیاری سے ماحول دوست اور کم لاگت بجلی کی جانب منتقلی کا عمل تیز ہوگا۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور صنعتی شعبے کو نئی توانائی ملے گی۔

ہارون اختر خان کے مطابق اس پالیسی کا ایک اہم مقصد قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت بھی ہے، کیونکہ اس وقت سولر آلات اور بیٹریوں کی درآمد پر بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ مقامی پیداوار شروع ہونے سے درآمدی بل میں کمی آئے گی جبکہ پاکستانی صنعتیں عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بن سکیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ طویل مدت میں یہ اقدام پاکستان کے توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان میں سولر پینلز کی مقامی تیاری کی بات سامنے آئی ہو۔ اگست 2024 میں بھی ایسے اعلانات کیے گئے تھے جن میں ملک کے اندر سولر پینل مینوفیکچرنگ کے آغاز کا عندیہ دیا گیا تھا۔

ایک چینی کمپنی نے سولر پینل تیار کرنے کا پلانٹ لگانے کے سلسلے میں رابطہ کیا ہے اور متعلقہ مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد پر زور دیا تھا۔

چینی کمپنی کا کہنا ہے کہ حکومت نے سولر پینل درآمد کرنے والوں کو جو ترغیبات دے رکھی ہیں ویسی ہی ترغیبات دی جائیں تاکہ قیمت کا فرق زیادہ نہ رہے۔

سرمایہ کاری میں سہولت کاری کی خصوصی کونسل (ایس آئی ایف سی) کے سیکریٹری جمیل قریشی کے نام خط میں رینا سولا پاکستان کے سی ای او نے بتایا ہے کہ اُن کا ادارہ رینا سولا اور اے سی ٹی گروپ کے اشتراک سے پاکستان میں پلانٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سولر پینل پلانٹ کراچی میں پورٹ قاسم کے علاقے میں قائم کیا جائے گا۔

مئی 2024 میں رینا سولا کے چیئرمین بو لی اور کمپنی کے دیگر نمائندوں نے ایس آئی ایف سی کے دفاتر کا دورہ کیا تھا۔ وہ وزارتِ صنعت اور پاور ڈویژن کے دفاتر بھی گئے تھے، لیکن اس حوالے سے عملی پیش رفت محدود رہی۔

مزید پڑھیں: بجٹ27-2026: 15 سے 50 کروڑ روپے آمدن پر سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

یہی وجہ ہے کہ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اس بار حکومتی اعلانات کے ساتھ عملی اقدامات اور واضح ٹائم لائنز کو بھی ضروری قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئی سولر پالیسی مؤثر انداز میں نافذ ہوتی ہے اور مقامی صنعت کو مطلوبہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تو پاکستان نہ صرف سستی اور صاف توانائی کے حصول میں کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں قابلِ تجدید توانائی کی صنعت کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے اعلانات سے بڑھ کر عملی اقدامات، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان، وفاقی وزیر پیٹرولیم

ہٹ گانا آنے کے باوجود کینیڈا میں سیکیورٹی گارڈ اور صفائی کی نوکریاں کرتا رہا، گپی گریوال کا انکشاف

ٹرمپ ایران معاہدہ: نیتن یاہو کے لیے سب سے تشویشناک لمحہ، سی این این کی رپورٹ

کینیڈا کا امریکا ایران مفاہمت میں پاکستان کے کردار کا اعتراف

کاشف ضمیر کی مولانا طارق جمیل سے ملاقات، رولیکس گھڑی کے تحفے پر بحث چھڑ گئی

ویڈیو

پاک سفارتکاری کی کامیابی، ایران امریکا امن معاہدے پر پشاور کے شہریوں کا خیرمقدم

اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی خصوصی ’رن فار فن ریس‘، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت

ایران-امریکا ثالثی میں پاکستان کی کامیابی کے پیچھے معرکہ حق کا اہم کردار ہے، انجینیئر خرم دستگیر

کالم / تجزیہ

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘

ویڈنگ ڈیٹیکٹیو یا خانگی جاسوسوں کے اچھوتے کام کا احوال

عین عشق کا المیہ