بجٹ27-2026: 15 سے 50 کروڑ روپے آمدن پر سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کاروباری طبقے کے لیے اہم ٹیکس ریلیف تجویز کیا ہے۔

جمعہ کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک کی سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباری اداروں پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026 : کانٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کے لیے نیا ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور معیشت میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔

15 سے 50 کروڑ روپے آمدن والے کاروباروں کے لیے بڑا ریلیف

قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے کاروباری شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدن کے سلیب پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نجی شعبے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

سپر ٹیکس کے موجودہ سلیب ختم ہوں گے

وزیر خزانہ کے مطابق اس سے قبل سپر ٹیکس کی شرح مختلف آمدنی کے سلیبز کے مطابق 1 فیصد سے لے کر 7.5 فیصد تک عائد کی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ تبدیلی کے بعد 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدن والے کاروباری اداروں کو اس اضافی ٹیکس سے مکمل استثنی حاصل ہوگا۔

50 کروڑ روپے سے زیادہ  آمدن پر بھی ٹیکس میں کمی

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ 50 کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباری اداروں پر اس وقت 10 فیصد سپر ٹیکس عائد ہے۔

مزید پڑھیں:سولر صارفین کے لیے بجٹ 27-2026 کا بڑا سرپرائز، حکومت کا ٹیکس نہ بڑھانے کا اعلان

حکومت نے اس شرح کو کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے، جس سے بڑے کاروباری اداروں کو بھی جزوی ریلیف ملے گا۔

چند شعبوں پر سپر ٹیکس برقرار رہے گا

وفاقی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ بعض منافع بخش شعبوں پر سپر ٹیکس برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر، تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں، اور فرٹیلائزر صنعت پر موجودہ سرچارج اور متعلقہ ٹیکسوں کا اطلاق بدستور جاری رہے گا۔

سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی کوشش

حکومت کا مؤقف ہے کہ سپر ٹیکس میں کمی اور بعض سلیبز کے خاتمے سے کاروباری لاگت کم ہوگی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور نجی شعبے کو مزید وسعت ملے گی۔

واضح رہے کہ اگر یہ تجاویز پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتی ہیں تو کاروباری برادری کو نمایاں ریلیف مل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

بجٹ27-2026 میں سپر ٹیکس سے متعلق یہ اقدامات حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ٹیکس نظام کو زیادہ متوازن بناتے ہوئے معاشی نمو اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp