سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاق کو مضبوط کرنے اور ملکی بقا کی خاطر پنجاب نے 546 ارب روپے کی خطیر فیڈرل گرانٹ دے کر ایک بڑی قربانی دی ہے۔
سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے صوبائی وزرا کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کے مالی سال 26-2025 اور 27-2026 کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 27-2026: پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز
پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کا کل مالیاتی حجم 5935 ارب روپے ہے، جس میں سے سال 26-2025 کا کرنٹ بجٹ 1096 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں 32 فیصد کم ہے۔
حکام کے مطابق بجٹ میں یہ نمایاں کمی صوبے میں کی جانے والی ‘اسمارٹ سائزنگ’، ‘رائٹ سائزنگ’ اور محکموں کی تنظیمِ نو کے باعث ممکن ہوئی ہے، جس کے ذریعے ہزاروں اضافی اور غیر فعال اسکیموں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔
پچھلے ڈھائی سال میں پنجاب حکومت نے عوام پر کوئی نیا ٹیکس لگائے بغیر صرف ٹیکس بیس میں اضافہ، اداروں کی وسعت اور بہتر گورننس کے ذریعے تاریخی اہداف حاصل کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی متحرک قیادت میں پنجاب ریونیو اتھارٹی نے 32 فیصد کی شاندار گروتھ ریکارڈ کی، جس سے ٹیکس ریونیو 201 بلین… pic.twitter.com/8ztrLHqCXR
— PMLN (@pmln_org) June 17, 2026
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار کیے جانے والے اس اقدام کے تحت گزشتہ ڈھائی سالوں میں 1990 کی دہائی سے التوا کا شکار 12786 غیر ضروری اسکیموں کو بند کر کے قومی خزانے کو ریکارڈ 3857 بلین روپے کا تاریخی ریلیف اور بچت فراہم کی گئی ہے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روک کر ترقیاتی فنڈز کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جاسکے۔
سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے واضح کیا کہ وفاق کو مضبوط کرنے اور ملکی بقا کی خاطر پنجاب نے 546 ارب روپے کی خطیر فیڈرل گرانٹ دے کر ایک بڑی قربانی دی ہے، جس کے بعد صوبے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 752 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بجٹ 25-2024 : مریم صاحبہ! آپ نے ہمیں پتھر کے دور میں پہنچا دیا
انہوں نے خصوصی طور پر بتایا کہ اس سخت مانیٹرنگ اور اسمارٹ سائزنگ کے باوجود وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سب سے ترجیحی شعبوں، بالخصوص سوشل سیکٹر، تعلیم اور صحت کے بجٹ پر کوئی کٹ نہیں لگایا گیا اور نہ ہی فنڈز میں کسی قسم کی کمی کی گئی ہے تاکہ ایک روشن اور صحت مند پنجاب کی بنیاد رکھی جا سکے۔
اس دفعہ کا بجٹ ایک مشکل مالی صورتحال میں تیار کیا گیا اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کو ترتیب دینا ایک بڑا چیلنج تھا۔
پنجاب کا مجموعی مالی حجم 5,903.5 ارب روپے رہا جس میں 752 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام شامل ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں نہ صرف صوبائی ترقیاتی ترجیحات کو… pic.twitter.com/GNSxrOc2bk— PMLN (@pmln_org) June 17, 2026
مریم اورنگزیب کے مطابق کل ترقیاتی بجٹ کا 44 فیصد حصہ یعنی 333 ارب روپے تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور واٹر اینڈ سینیٹیشن کے لیے ہی مختص ہے، جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں ترقی کے اصول کے تحت 66 شہروں میں ‘پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام’ جاری ہے اور جنوبی پنجاب کے لیے بجٹ میں 28 سے 30 فیصد کا علٰحدہ حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں وفاقی سطح پر ملنے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی دانشمندانہ قیادت، بہترین سفارتکاری اور قومی عزم کے ذریعے نہ صرف عالمی امن کے فروغ اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ہر محاذ پر پاکستان کو کامیابیاں دلوا کر دنیا بھر میں ملک کا وقار بلند کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی صورتحال اور بدترین علاقائی و سیلابی کرائسز کے باوجود پنجاب حکومت نے بروقت اقدامات اور مؤثر حکمتِ عملی سے بہترین کارکردگی دکھائی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن بجٹ کاپیاں نہ پھاڑ سکی
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلاب زدگان کے لیے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے کاموں کو تیزی سے فیلڈ میں لیڈ کیا گیا اور متاثرین کو صوبے کے اپنے فنانشل ریسورسز سے مکمل شفافیت کے ساتھ معاوضہ پہنچا کر ایک ذمہ دار وعوام دوست حکومت کی عملی مثال قائم کی گئی۔
پنجاب کا سب سے بڑا صوبائی شیئر فیڈریشن کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب نے نہ صرف وفاقی حصے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا بلکہ اپنے وسائل بڑھانے پر بھی توجہ دی۔ پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت گورننس بہتر بنائی گئی،… pic.twitter.com/ScWeBBEKt7
— PMLN (@pmln_org) June 17, 2026
بریفنگ میں صوبے کے بڑے عوامی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ ‘ای-موبلٹی پروگرام’ کے تحت پنجاب کے مختلف شہروں کے لیے 2000 الیکٹرک بسیں لائی جارہی ہیں جن میں سے 600 بسیں پہنچ چکی ہیں۔
‘اپنا گھر پروگرام’ کے تحت اب تک لاکھوں مکانات مکمل ہوچکے ہیں اور سالانہ ایک لاکھ گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گوجرانوالہ میٹر اور فیصلہ آباد میٹر کے لیے بالترتیب 62 ارب اور 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری رکھی گئی ہے۔
زراعت کے شعبے میں کسانوں کو 300 ارب روپے کے بلا سود قرضے دیے گئے جن کی ریکوری 99 فیصد رہی ہے، اور اس کے ساتھ ہی لائیو اسٹاک کارڈ اور موبائل ڈسپنسریز کا آغاز بھی کیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں پہلی بار 5500 ایکڑ پر جدید فارمنگ مہم کا آغاز جولائی سے ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے بجٹ پر سیاسی جماعتیں آمنے سامنے، کس نے کیا کہا؟
صوبائی وزرا نے میڈیا کو بتایا کہ اس بہترین حکمت عملی کی بدولت گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پنجاب کا اپنا مقامی ریونیو 426 ارب روپے سے بڑھ کر 820 ارب روپے کے ہدف تک پہنچ چکا ہے، جو پنجاب کی معاشی خود انحصاری کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کی قیادت میں پنجاب حکومت کا تیسرا بجٹ (2026-27) پیش کر دیا گیا ہے، جو پورے صوبے میں بلا تفریق اور یکساں ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پچھلے ڈھائی سالوں میں جس طرح پنجاب بھر میں ترقیاتی کام جاری و ساری ہیں، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس… pic.twitter.com/9uV5A7XkSn
— PMLN (@pmln_org) June 17, 2026
وزرا کے مطابق یہ کامیابی کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ یا ریٹ بڑھائے بغیر محض ٹیکس نیٹ اور بیس کو وسیع کر کے حاصل کی گئی ہے۔ حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے کے لیے صوبے کے تمام ٹیکسوں کو ‘ایک چھت تلے’ لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو الگ الگ محکموں سے رابطہ نہ کرنا پڑے۔
اس کے علاوہ صوبائی بجٹ میں نوجوانوں کے لیے 100 ارب روپے کا اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام، اسموگ کی روک تھام کے لیے 10 ہاٹ اسپاٹس کی سائنسی نگرانی، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 2000 سے زائد ہیلتھ سینٹرز کی آؤٹ سورسنگ جیسے انقلابی اقدامات بھی اس بجٹ کا حصہ ہیں۔













