معروف بھارتی گلوکار سونُو نگم نے اپنی صحت سے متعلق ایک دردناک مسئلے کا انکشاف کیا ہے جس میں وہ پِنچڈ نرو یعنی اعصابی دباؤ (یا نس کے دب جانے) کی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس انکشاف نے اس عام مگر بعض اوقات شدید تکلیف دہ طبی حالت کی جانب توجہ مبذول کرا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلوکار سونونگم کے والد کے گھر سے 72 لاکھ روپے کی چوری
سونُو نگم نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں بتایا کہ وہ اس وقت ایم آر آئی اور سی ٹی اسکینز سے گزر رہے ہیں جبکہ درد کم کرنے کے لیے فزیوتھراپی، درد کی ادویات اور مسل ریلیکسنٹس استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ان مشکلات کے باوجود ممبئی میں اپنی پرفارمنس کی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بالی ووڈ کے مایہ ناز گلوکار نے فزیوتھراپی کے سیشنز کو بہت تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس کی حالت نے ان کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ تاہم انہوں نے خاموشی سے پیچھے ہٹ جانے کے بجائے اس مسئلے کو کھل کر بیان کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ ایک کم ہی دیکھنے میں آنے والا لمحہ ہے کہ ایک ایسا فنکار جو 3 دہائیوں سے گائیکی کو انتہائی آسان بنا کر پیش کرتا آیا ہے اب ایسی تکلیف میں مبتلا ہے۔ درد کے اسٹیج پر ظاہر ہونے کے حوالے سے نگم نے بتایا کہ ان کے اعصابی مسئلے کے لیے دی جانے والی مسل ریلیکسنٹ ادویات نے ان کے گلے میں تھوڑا بھاری پن پیدا کردیا ہے جو لائیو پرفارمنس کی تیاری کرنے والے گلوکار کے لیے تشویشناک ہے۔
مزید پڑھیے: پہلگام حملے پر بیان بازی اداکار سونو نگم کو مہنگی پڑ گئی، ایف آئی آر درج
یہ محض عام تکلیف نہیں ہے۔ پیشہ ور گلوکاروں کے لیے گردن اور کندھے سے گزرنے والے اعصابی راستے ان عضلات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں جو سانس کے کنٹرول، جسمانی پوسچر اور آواز کی ڈوریوں کے کام کو منظم کرتے ہیں۔ ان راستوں میں کہیں بھی اعصاب پر دباؤ یا جلن براہ راست آواز میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔
پِنچڈ نرو کیا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق پِنچڈ نرو اس حالت کو کہا جاتا ہے جب جسم کے کسی حصے میں اعصاب پر اردگرد کے ٹشوز جیسے ہڈیاں، پٹھے، کارٹلیج یا ڈسک زیادہ دباؤ ڈالیں۔ اس دباؤ کے باعث اعصاب کا معمول کا کام متاثر ہو جاتا ہے اور دماغ و جسم کے درمیان سگنلز کی ترسیل میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے ذریعے دماغی و اعصابی بیماریوں کے علاج میں امید افزا پیشرفت
یہ مسئلہ جسم کے مختلف حصوں میں ہو سکتا ہے جیسے گردن (سروائیکل اسپائن)، کمر (لمبر اسپائن)، کندھے، کلائی (کارپل ٹنل) اور ٹانگیں۔ اکثر کیسز میں یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے تاہم اگر دیر تک برقرار رہے تو یہ دائمی درد یا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
علامات جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے
پِنچڈ نرو کی عام علامات جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
متاثرہ حصے میں درد یا جلن، سن ہونا یا جھنجھناہٹ، پٹھوں میں کمزوری، گردن یا کمر کی حرکت میں مشکل اور درد کا بازو یا ٹانگ تک پھیل جانا۔
علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
اس کیفیت کا علاج عام طور پر دباؤ کم کرنے اور سوزش ختم کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں آرام اور سرگرمیوں میں کمی، درد کم کرنے والی ادویات، فزیوتھراپی، گرم یا ٹھنڈے پیک، طرز زندگی اور جسمانی ساخت میں بہتری شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہلکی پھلکی ویٹ لفٹنگ صحت مند زندگی کی کنجی کیسے بن سکتی ہے؟
زیادہ سنگین صورتوں میں ڈاکٹر اسٹیرائڈ انجیکشن یا شاذ و نادر سرجری بھی تجویز کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
اگر درد مسلسل بڑھتا جائے، جسم میں شدید کمزوری ہو، یا علامات روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔














