اگرچہ کارڈیو ورزش جیسے دوڑنا، سائیکلنگ اور واکنگ دل اور مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں لیکن وزن اٹھانے اور طاقت بڑھانے والی ورزش (اسٹرینتھ یا ریزسٹنس ٹریننگ) جسم کو بڑھاپے میں زیادہ مضبوط، فعال اور خودمختار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوگوں کے نام دماغ سے جلدی نکل جاتے ہیں تو یہ آسان ورزش کرلیں
ماہرین صحت کا کہنا ہے اس ورزش کے سب سے بڑے فوائد ان افراد میں دیکھے جاتے ہیں جو بالکل ورزش نہیں کرتے اور بعد میں اسے شروع کرتے ہیں۔ صرف ہفتے میں دو بار 20 سے 30 منٹ کی سادہ اسٹرینتھ ٹریننگ بھی جسم میں واضح بہتری لا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ جم جانا پڑے بلکہ گھر میں بھی سادہ چیزوں جیسے کرسی، پانی کی بوتلیں یا عام گھریلو اشیا کے ذریعے یہ ورزش کی جا سکتی ہے۔
ابتدائی افراد کے لیے اسکواٹس، بیٹھ کر کھڑا ہونا، پش اپس، پلینک اور ہلکے وزن اٹھانے جیسی ورزشیں تجویز کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کو وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ ٹرین کرنا زیادہ محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے کیونکہ جسم بتدریج نئے بوجھ کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسٹرینتھ ٹریننگ نہ صرف جسمانی طاقت بڑھاتی ہے بلکہ دل کی بیماری، ذیابیطس، کینسر اور قبل از وقت موت کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے۔ کچھ مطالعات کے مطابق ہفتے میں محدود وقت کی یہ ورزش مجموعی صحت پر نمایاں مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: ذہنی، جسمانی یا اعصابی بے چینی اور دباؤ کے شکار لوگ ورزش کی عادت اپنائیں، ماہرین
ماہرین کے مطابق اس ورزش کے ذہنی فوائد بھی اہم ہیں جن میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے چینی میں کمی شامل ہے۔ باقاعدہ ورزش کرنے والے افراد اکثر بہتر ذہنی سکون اور وضاحت محسوس کرتے ہیں کیونکہ جسمانی سرگرمی ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
مزید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ 70 سال سے زائد عمر کے افراد بھی اگر باقاعدگی سے وزن اٹھانے یا مزاحمتی ورزش کریں تو ان کی جسمانی فعالیت، پٹھوں کی طاقت اور روزمرہ زندگی میں خودمختاری بہتر رہتی ہے۔
ماہرین اسٹرینتھ ٹریننگ کو ایک ’پینشن فار یور فیوچر سیلف‘ یعنی اپنے مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری قرار دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آج کی گئی یہ محنت آنے والے وقت میں بیماری، چوٹ یا بڑھاپے کے اثرات سے جسم کو بہتر طریقے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’اسنیکٹویٹی‘: بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات ٹالنے والی یہ ترکیب کیا ہے؟
ان کے مطابق بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ ورزش کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے اور چھوٹے مگر مستقل قدموں کے ذریعے جسمانی طاقت کو آہستہ آہستہ بڑھایا جائے کیونکہ تسلسل ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔














