آبنائے ہرمز کھل تو گئی، مگر بحری جہازوں کی حفاظت اب بھی سوالیہ نشان

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی بحران میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم تیل بردار جہازوں اور شپنگ کمپنیوں نے فوری طور پر معمول کی سرگرمیاں بحال نہیں کیں۔ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز میں اب بھی سیکیورٹی خدشات، ممکنہ بارودی سرنگوں اور مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خطرات موجود ہیں۔

جنگ سے قبل روزانہ 120 سے 140 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، جن میں تقریباً نصف تیل بردار جہاز شامل تھے جو روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل لے جاتے تھے۔ تنازع شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ معاہدے کے اعلان کے بعد اگرچہ راستہ کھول دیا گیا، مگر چند دنوں میں صرف محدود تعداد میں جہازوں نے گزرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ تاریخی معاہدے میں پاکستان کا بڑا ہاتھ ، ڈیل نہ ہوتی تو’آبنائے ہرمز‘ نہ کھلتی اورعالمی کساد بازاری کا سامنا ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ

شپنگ کمپنیاں اور انشورنس ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت دوبارہ کشیدگی شروع ہو سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے نے بحری سفر کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز اپنے تنگ ترین مقام پر صرف تقریباً 33 کلومیٹر چوڑی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی واقعے کے عالمی تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ ممکنہ بارودی سرنگوں کا ہے۔ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ امریکا نے بھی ان خطرات کا ذکر کیا اور کہا کہ ممکنہ سرنگوں کی صفائی ضروری ہوگی۔ ماہرین کے مطابق جب تک محفوظ بحری راستے کی مکمل تصدیق نہیں ہوتی، انشورنس کمپنیاں جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور چین آبنائے ہرمز کو عسکریت سے محفوظ رکھنے پر متفق اور کسی بھی قسم کی چنگی کے مخالف ہیں، مارکو روبیو  

ایک اور اہم مسئلہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ممکنہ فیس یا انتظامی چارجز ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ محفوظ آمدورفت کے انتظام کے لیے فیس وصول کر سکتا ہے، جبکہ امریکا اور خلیجی ممالک اسے آزادیٔ جہاز رانی کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی معیشت کے لیے مثبت قدم ہے، لیکن مکمل معمول کی بحالی کے لیے صرف سیاسی معاہدہ کافی نہیں ہوگا۔ جہاز مالکان اور انشورنس ادارے طویل عرصے تک امن، استحکام اور محفوظ راستے کی ضمانت چاہتے ہیں، جس کے بعد ہی دنیا کی اس اہم ترین سمندری گزرگاہ پر معمول کی سرگرمیاں بحال ہو سکیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مدینہ منورہ میں مذہبی امور کی انسپکشن ٹیمیں متحرک، حجاج کرام کی واپسی کا شیڈول جاری

ڈاکٹر شوہر نے بیوی کی نگرانی کے لیے گھر میں سی سی ٹی وی لگا دیے، دلہن نے خودکشی کرلی

ایران امریکا معاہدہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان، وفاقی وزیر پیٹرولیم

ہٹ گانا آنے کے باوجود کینیڈا میں سیکیورٹی گارڈ اور صفائی کی نوکریاں کرتا رہا، گپی گریوال کا انکشاف

ٹرمپ ایران معاہدہ: نیتن یاہو کے لیے سب سے تشویشناک لمحہ، سی این این کی رپورٹ

ویڈیو

پاک سفارتکاری کی کامیابی، ایران امریکا امن معاہدے پر پشاور کے شہریوں کا خیرمقدم

اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی خصوصی ’رن فار فن ریس‘، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت

ایران-امریکا ثالثی میں پاکستان کی کامیابی کے پیچھے معرکہ حق کا اہم کردار ہے، انجینیئر خرم دستگیر

کالم / تجزیہ

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘

ویڈنگ ڈیٹیکٹیو یا خانگی جاسوسوں کے اچھوتے کام کا احوال

عین عشق کا المیہ