امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت جمعرات کو ایشیائی کاروبار کے آغاز پر 1.6 فیصد تک گر گئی اور 78.43 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران عبوری معاہدے کا خیرمقدم، جی7 رہنماؤں کا لبنان میں جنگ بندی پر زور
تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی وارننگ کے باعث ایک روز قبل قیمتوں میں عارضی اضافہ دیکھا گیا تھا اور برینٹ کروڈ 81 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تھا۔
معاہدے کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی میں بہتری کی توقعات کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مثبت رجحان رہا۔ جاپان کے بینچ مارک نکی 225 انڈیکس میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی اور تائیوان کے ٹائیکس انڈیکس میں بھی ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.7 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
تاہم عالمی شپنگ کمپنیوں اور بحری صنعت سے وابستہ اداروں نے صورتحال کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ عالمی بحری تنظیم کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے محفوظ بحری راستوں اور ٹائم لائن سے متعلق واضح تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اب بھی خطرات سے دوچار ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ جلد منظر عام پر لانے کا اعلان
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے خلیج سے باہر جانے کے لیے 500 سے زائد بحری جہاز انتظار میں ہیں، جبکہ جنگی کشیدگی اور بحری پابندیوں کے باعث سمندری تجارت معمول سے کہیں کم سطح پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی عملی تفصیلات سامنے آنے تک عالمی شپنگ سیکٹر غیر یقینی صورتحال کا شکار رہ سکتا ہے۔














