جی7 ممالک کے رہنماؤں نے لبنان میں فوری اور مؤثر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ توانائی کی سپلائی کے متبادل راستے اختیار کریں گے تاکہ آبنائے ہرمز پر عالمی انحصار کم کیا جا سکے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک عبوری معاہدے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔
جی7 ممالک کے رہنما جینیوا جھیل کے کنارے واقع فرانسیسی شہر ایویان لے بینز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ واشنگٹن اور تہران سے امریکا۔ایران جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 52ویں جی 7 کانفرنس فرانس میں جاری، عالمی بحرانوں اور معاشی چیلنجز پر غور
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا باضابطہ اعلان جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے، جو مستقل امن تصفیے کی جانب مذاکرات کا آغاز کرے گا۔
اس جنگ میں اب تک 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت ایران اور لبنان کے شہریوں کی ہے۔
جی7 رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مذاکرات کے ذریعے خطے اور دنیا میں ایران سے متعلق خدشات کا حل نکالنا ضروری ہے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
🗣️ Statement from G7 leaders:
– We support an immediate ceasefire in Lebanon and we support Lebanon’s efforts to disarm Hezbollah.
– We support the unity of Lebanese territory and its sovereignty over its lands.
– The agreement between Washington and Tehran is a historic… pic.twitter.com/qA0MQQB2AJ
— This Is Beirut (@ThisIsBeirut_) June 16, 2026
سربراہی اجلاس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان سمیت اپنے اہم اتحادیوں کو ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے آگاہ کریں۔
اگرچہ جی7 ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی خدشات سے بڑی حد تک اتفاق کرتے ہیں، تاہم انہوں نے جنگ شروع کرنے کے فیصلے کی حمایت نہیں کی تھی۔
کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران نے امریکی دباؤ کا مقابلہ کرکے اور آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ کر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔
مزید پڑھیں: جینیوا میں جی 7 کے خلاف احتجاج، فلسطینی پرچموں اور ماحولیاتی نعروں کی گونج
رہنماؤں نے کہا کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد میں تعاون کے لیے تیار ہیں، برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک بین الاقوامی اتحاد آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بحری جہاز رانی کے تحفظ میں مدد فراہم کرے گا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس ہفتے دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت، جسے ابھی عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا، اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کرتی ہے تاکہ مستقل امن معاہدے پر مذاکرات مکمل کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: جی7 اجلاس: مودی اور ٹرمپ کی ملاقات میں سرد مہری، ویڈیو وائرل
تاہم ناقدین کے مطابق صدر ٹرمپ جنگ کے آغاز میں جن اہداف کا اعلان کرتے تھے، ان میں سے اکثر حاصل نہیں ہو سکے۔
ایران کا مذہبی نظامِ حکومت برقرار ہے، اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر موجود ہیں، بیلسٹک میزائل پروگرام ختم نہیں ہوا اور لبنان میں حزب اللہ سمیت ایران کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی جاری ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، امریکی حکام کے مطابق آئندہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے یا منتقلی پر بھی بات چیت ہوگی۔
لبنان پر اختلافات برقرار
جنگ بندی کے باوجود لبنان کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا سوال بنا ہوا ہے۔ اسرائیل نے مارچ میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے جنوبی لبنان میں فوجی مداخلت کی تھی۔
اسرائیلی افواج اب بھی جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں موجود ہیں جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے اور مستقل معاہدے میں اسرائیلی افواج کے انخلا کو شامل کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جی 77 اور چین وزارتی اجلاس: جنوبی ممالک کے مفادات کا ہر سطح پر تحفظ کریں گے، اسحاق ڈار
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ انخلا نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس مسئلے نے امریکا اور اسرائیل کے درمیان بھی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لبنان کے معاملے میں اسرائیل کے رویے سے مطمئن نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ممکن نہیں تھا، اور میرے بغیر بھی اسرائیل کو وہ حمایت نہ ملتی جو میں نے فراہم کی۔
جی7 رہنماؤں نے اپنے بیان میں لبنان میں فوری جنگ بندی اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔














