افریقہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ کانگو میں جاری ایبولا کا پھیلاؤ اب تک کا سب سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ردِعمل میں موجود اہم کمزوریوں کو فوری طور پر دور نہ کیا گیا تو اس وبا کو قابو کرنے میں بعد میں اربوں ڈالر کی لاگت آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایبولا وائرس پھیلنے کا خطرہ، یو اے ای نے 3 ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کردیں
کانگو میں ایبولا کی نایاب ‘بُنڈی بُگیو’ قسم کے 830 سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 196 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بیماری جسمانی رطوبتوں کے ذریعے پھیلتی ہے اور موت کے بعد بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ بیماری ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے 3 صوبوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
Why are experts warning latest Ebola outbreak could be 'worst ever'? The deadly Ebola virus outbreak in eastern Africa could be the “worst ever” in history, the director-general of Africa’s Centres for Disease Control and Prevention, Jean Kaseya, has warned.
Kaseya sounded the… pic.twitter.com/CYG92Db3tW
— Steve Ruud (@ruud_steve9838) June 18, 2026
افریقہ ی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل جین کیسیا نے برونڈی میں افریقی رہنماؤں اور ڈونرز کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس وبا کو جلد نہ روکا گیا تو یہ مغربی افریقہ اور مشرقی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کی وباؤں سے بھی زیادہ خراب ہو جائے گی۔
ان کا یہ انتباہ امریکا کے سی ڈی سی کی اسی نوعیت کی پیشگوئی سے ہم آہنگ ہے، جس میں 2014 سے 2016 کے دوران گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں پھیلنے والی وبا کا حوالہ دیا گیا تھا، جس میں 11 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2018 میں کانگو میں نسبتاً کم مہلک وبا بھی سامنے آئی تھی۔
مزید پڑھیں: کانگو میں ایبولا پر قابو نہ پایا جا سکا، عالمی ایمرجنسی کے ایک ماہ بعد بھی بحران برقرار
تاہم برونڈی کے صدر اور افریقی یونین کے چیئرمین ایوریسٹ نڈییشیمیے کے مطابق اب تک آئندہ 6 ماہ کے لیے 518 ملین ڈالر کے منصوبے کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی موصول ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملنے والے وسائل 100 ملین ڈالر سے زیادہ نہیں ہیں۔

افریقہ سی ی سی کے سربراہ کیسیا نے خبردار کیا کہ اگر ابتدائی فنڈنگ کی مکمل حمایت نہ ملی تو مجموعی ضروریات مزید بڑھ جائیں گی۔
ان کے مطابق اگر انہیں اگلے 4 ہفتوں میں رقم نہ ملی تو ہم 500 ملین نہیں بلکہ 1.5 ارب ڈالر مانگیں گے اور اگر مزید تاخیر ہوئی تو یہ 7.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
اہم چیلنجز
ریڈ کراس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ مشرقی کانگو میں ایبولا کی وبا ابھی اپنی انتہا تک نہیں پہنچی۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے آپریشنز مینیجر برونو میشون نے کہا کہ خدشہ ہے کہ یہ وبا ایک سال تک جاری رہ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صحت کے نظام کو علاج کے مراکز کی کمی اور کمیونٹی کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق ایک ماہ گزرنے کے باوجود اصل صورتحال ابھی واضح نہیں۔
مزید پڑھیں: عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان: پاکستان بھر کے ہوائی اڈوں پر ایبولا وائرس کی اسکریننگ سخت
ریڈ کراس ٹیموں کو، جو مریضوں کی تدفین اور کمیونٹی آگاہی میں مدد کرتی ہیں، حالیہ دنوں میں دھمکیوں اور بدسلوکی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایبولا سے مرنے والوں کی لاشیں انتہائی متعدی ہوتی ہیں، اور روایتی تدفین کے طریقے، جس میں اہل خانہ بغیر حفاظتی سامان کے لاش کو چھوتے ہیں، بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہیں۔
افریقہ سی ڈی سی کے مطابق 800 سے زائد کیسز کے باوجود صرف 12 فیصد مریضوں کے روابط کا سراغ لگایا جا رہا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید یہ کہ تدفین کی ٹیموں اور حفاظتی سامان کی بھی شدید کمی ہے۔
بین الاقوامی ردِعمل
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اس بحران میں سب سے تیز اور سب سے بڑا عطیہ دینے والا ملک ہے اور دیگر ممالک سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے۔
جنوبی افریقہ، چین، جرمنی اور فرانس نے بھی اجلاس میں اضافی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔













