واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے نئے امن فریم ورک پر اسرائیلی تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر معمولی انداز میں تل ابیب کو کھری کھری سنا دی ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے اسرائیلی قانون سازوں اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق اگر اسرائیلی قیادت امریکی صدر پر تنقید کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی بنا لے تو یہ اس کے اپنے مفاد میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ: تعمیرِ نو و ترقیاتی فنڈز سمیت تہران کو سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق ہوا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کا اسرائیل اور ان کی قیادت کے لیے پیغام 2 حصوں پر مشتمل ہوگا۔ پہلی بات یہ کہ اس وقت پوری دنیا میں صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی ایسے سربراہِ مملکت ہیں جو اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اگر وہ اسرائیلی حکومت کی کابینہ میں ہوتے تو شاید کبھی اپنے واحد طاقتور اتحادی پر تنقید یا حملہ نہ کرتے، جو اس وقت پوری دنیا میں ان کے ساتھ ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی کابینہ کے اراکین کو یہ بھی یاد دلائیں گے کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً دو تہائی دفاعی ہتھیار ’امریکی ہاتھوں سے تیار کیے گئے ہیں اور ان کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان نے ادا کی ہے‘۔
امریکا ہر سال اسرائیل کو تقریباً 4 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، تاہم دونوں ممالک اس وقت ایک نئے امدادی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
🚨 WOW! JD Vance is DIRECTLY calling out Israeli cabinet members for their personal attacks on President Trump
“Donald J. Trump is the ONLY head of state in the ENTIRE WORLD who is sympathetic to the nation of Israel at this moment in time, and he happens to be the head of state… pic.twitter.com/0H9yGH8ubL
— Nick Sortor (@nicksortor) June 18, 2026
وینس نے مزید کہا کہ اسرائیل کا مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں اور اسرائیل میں جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی صدر ہیں، اسے چاہیے کہ وہ حقیقت کا ادراک کرے اور اپنے ملک کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ ایران کو معاہدے کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، ورنہ اسے کسی قسم کے معاشی یا سفارتی فوائد نہیں ملیں گے۔ ان کے مطابق اصل بنیاد ’اعتماد نہیں بلکہ تصدیق‘ ہے، اور عمل درآمد ہی اصل معیار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کو اسی صورت میں فوائد حاصل ہوں گے جب وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر پوری کرے گا۔ وینس نے یہ بھی بتایا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے اور امریکا نے ابتدائی طور پر ایران کے لیے بحری راستوں پر عائد کچھ پابندیاں نرم کی ہیں۔
خبر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی سامنے آ رہی ہے، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں امریکی پالیسی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا امن معاہدہ یمن میں بھی امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے، پاکستان
جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ وہ جلد سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے جا سکتے ہیں تاکہ ایک مستقل اور طویل المدتی معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل امریکی انتظامیہ کے لیے ایک اہم سفارتی امتحان ہے، تاہم ان کے مطابق ٹیم نے اب تک اچھا کام کیا ہے اور صورتحال بہتری کی طرف جا رہی ہے۔














