ٹرمپ واحد لیڈر ہیں جو اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، لہٰذا تل ابیب کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے، جے ڈی وینس

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے نئے امن فریم ورک پر اسرائیلی تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر معمولی انداز میں تل ابیب کو کھری کھری سنا دی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے اسرائیلی قانون سازوں اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق اگر اسرائیلی قیادت امریکی صدر پر تنقید کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی بنا لے تو یہ اس کے اپنے مفاد میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ: تعمیرِ نو و ترقیاتی فنڈز سمیت تہران کو سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق ہوا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کا اسرائیل اور ان کی قیادت کے لیے پیغام 2 حصوں پر مشتمل ہوگا۔ پہلی بات یہ کہ اس وقت پوری دنیا میں صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی ایسے سربراہِ مملکت ہیں جو اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اگر وہ اسرائیلی حکومت کی کابینہ میں ہوتے تو شاید کبھی اپنے واحد طاقتور اتحادی پر تنقید یا حملہ نہ کرتے، جو اس وقت پوری دنیا میں ان کے ساتھ ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی کابینہ کے اراکین کو یہ بھی یاد دلائیں گے کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً دو تہائی دفاعی ہتھیار ’امریکی ہاتھوں سے تیار کیے گئے ہیں اور ان کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان نے ادا کی ہے‘۔

امریکا ہر سال اسرائیل کو تقریباً 4 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، تاہم دونوں ممالک اس وقت ایک نئے امدادی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

 

وینس نے مزید کہا کہ اسرائیل کا مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں اور اسرائیل میں جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی صدر ہیں، اسے چاہیے کہ وہ حقیقت کا ادراک کرے اور اپنے ملک کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرے۔

امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ ایران کو معاہدے کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، ورنہ اسے کسی قسم کے معاشی یا سفارتی فوائد نہیں ملیں گے۔ ان کے مطابق اصل بنیاد ’اعتماد نہیں بلکہ تصدیق‘ ہے، اور عمل درآمد ہی اصل معیار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کو اسی صورت میں فوائد حاصل ہوں گے جب وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر پوری کرے گا۔ وینس نے یہ بھی بتایا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے اور امریکا نے ابتدائی طور پر ایران کے لیے بحری راستوں پر عائد کچھ پابندیاں نرم کی ہیں۔

خبر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی سامنے آ رہی ہے، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں امریکی پالیسی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا امن معاہدہ یمن میں بھی امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے، پاکستان

جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ وہ جلد سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے جا سکتے ہیں تاکہ ایک مستقل اور طویل المدتی معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل امریکی انتظامیہ کے لیے ایک اہم سفارتی امتحان ہے، تاہم ان کے مطابق ٹیم نے اب تک اچھا کام کیا ہے اور صورتحال بہتری کی طرف جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے ایلچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، سیز فائر کے باوجود لبنانی علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری

پاک فوج میں بغاوت کی بات کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے، کشمیری قیادت کا مطالبہ

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر ازبکستان کی پاکستان کو مبارکباد، سفارتی کردار اور امن کوششوں کو سراہا

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اہم بیٹھک، اسحاق ڈار قاہرہ روانہ

امریکا اور قطر کا ایران کے منجمد اربوں ڈالر جاری کرنے پر غور، 6 ارب ڈالر کی ابتدائی رقم تک رسائی کا امکان

ویڈیو

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر

شہباز شریف کا وعدہ پورا، پیٹرول کی قیمت میں 74روپے کمی، امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو کھری کھری سنادیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا، جنگ ختم نہ ہونے پر پیٹرول کی قیمت 10ہزار روپے ہوتی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘