کراچی پولیس نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ منشیات فروش انمول پنکی کے نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کے قبضے سے آئس (کرسٹل میتھ) اور کوکین برآمد ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انمول پنکی کا مبینہ وائس نوٹ ماننے سے انکار، پولیس وائس ٹیسٹ لینے کے لیے عدالت پہنچ گئی
پولیس کے مطابق بوٹ بیسن کے قریب خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر آن لائن منشیات کی سپلائی میں ملوث تھے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت عاقب رحمان اور غلام مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں ملزمان مبینہ طور پر انمول پنکی گینگ کے لیے کام کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ برآمد ہونے والی منشیات کو مزید تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے جبکہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور روابط کا سراغ لگایا جا سکے۔
مزید پڑھیے: شمعون عباسی نے منشیات فروش انمول پنکی پر ڈراما بنانے کی مخالفت کردی، وجہ کیا بتائی؟
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ مبینہ طور پر انمول پنکی کے منیجر حسن کے ذریعے آن لائن کوکین اور آئس کی سپلائی کرتے تھے۔
ڈی آئی جی کے مطابق یہ مقدمہ انمول پنکی گینگ کی ڈیجیٹل اور مالی سرگرمیوں سے متعلق جاری وسیع تحقیقات کا حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل انمول پنکی کے موبائل فون سے تقریباً 100 جی بی ڈیٹا، 75 ہزار تصاویر، سینکڑوں مالی لین دین کے اسکرین شاٹس، 13 ہزار رابطہ نمبرز اور تقریباً 42 ہزار کال ریکارڈز برآمد کیے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: دمہ، گردوں اور دیگر عوارض کی شکایت پر جیل میں انمول پنکی کا طبی معائنہ، ڈاکٹروں نے کیا بتایا؟
پولیس حکام کے مطابق برآمد شدہ ڈیجیٹل شواہد کا تفصیلی فرانزک اور تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ گینگ کے پورے نیٹ ورک، مالی معاملات اور دیگر ممکنہ ساتھیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔














