منشیات کیس میں گرفتار مبینہ ڈرگ کوئین پن انمول عرف پنکی کے طبی معائنے کے بعد جیل حکام نے ان کی صحت سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ گردوں کی تکلیف، دمے، آنکھوں اور معدے کے مسائل کا سامنا کرنے کی شکایت کر رہی ہیں تاہم ڈاکٹروں نے مجموعی طور پر ان کی حالت کو ’تسلی بخش‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’انمول‘ نے معاشرے میں زہر پھیلانے کی کوشش کی، شرجیل میمن
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات نے بتایا کہ انمول عرف پنکی کا سینٹرل جیل کراچی میں طبی معائنہ کیا گیا جس میں ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو اطمینان بخش قرار دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج انہیں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن نہیں لے جایا گیا حالانکہ گردوں میں تکلیف کی شکایت پر انہیں وہاں لے جانے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں خط بھی لکھا گیا تھا۔
آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹروں نے ضرورت محسوس کی تو ملزمہ کو اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ طبی معائنے کے دوران انمول کے گردوں کی تکلیف سامنے آئی تھی۔

جیل حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کو دمے کی شکایت بھی ہے اور وہ انہیلر استعمال کرتی ہیں جبکہ وہ آنکھوں اور معدے کے امراض میں بھی مبتلا ہیں۔
اس سے قبل جیل سپرنٹنڈنٹ نے سول اسپتال کراچی سے ایک خصوصی طبی ٹیم جیل بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ درخواست میں بتایا گیا تھا کہ الٹراساؤنڈ رپورٹ میں ایک گردے کے نچلے حصے میں ایک غیر معمولی حصہ دیکھا گیا جو ممکنہ طور پر اینجیو مایولیپوما نامی غیر سرطانی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں
معالجین نے دوبارہ اسکین، لیبارٹری ٹیسٹ اور مزید طبی معائنے کی سفارش کی تھی جبکہ پتّے اور گردوں میں پتھری کے امکان کو بھی جانچنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
جیل انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزمہ کی ہائی پروفائل حیثیت کے باعث انہیں اسپتال منتقل کرنا سیکیورٹی خدشات کا باعث بن سکتا ہے اس لیے طبی معائنہ جیل کے اندر یا خصوصی میڈیکل بورڈ کے ذریعے کرانے کی تجویز دی گئی۔
مزید پڑھیں: ’مجھے لاہور سے گرفتار کرکے یہاں لائے ہیں‘، انمول پنکی کی عدالت میں دہائی
واضح رہے کہ انمول عرف پنکی کو گزشتہ ہفتے منشیات کے متعدد مقدمات اور ایک قتل کے مقدمے میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا۔ انہیں رواں ماہ کراچی میں منشیات اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان کے خلاف ایک درجن سے زائد مقدمات پہلے ہی درج ہیں۔














