ناسا کے لوسی خلائی جہاز نے ایک غیر متوقع سیارچے ‘52246 ڈونلڈ جوہانسن’ (ڈی جے) پر قدیم پانی کے شواہد دریافت کیے ہیں، جس نے اس چٹانی وجود کے نظامِ شمسی میں بننے کے مقام سے متعلق سائنسی نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
لوسی خلائی جہاز نے اپریل 2025 میں اس سیارچے کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کی سطح پر ‘آئرن فائیلوسلیکیٹس’ نامی مادے کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے، جو کہ سائنسی اصولوں کے مطابق صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے جہاں مائع پانی موجود ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کی بڑی کامیابی: دمدار ستارے میں پانی کے اجزا کی دریافت
یہ دریافت اس لیے حیران کن ہے کیونکہ یہ سیارچہ مریخ اور مشتری کے درمیان اندرونی بیلٹ میں گردش کر رہا ہے، جہاں شدید گرمی کی وجہ سے نظامِ شمسی کے ابتدائی دور کا پانی یا برف برقرار رہنا ممکن ہی نہیں ہے۔
ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے سیاروں کے ماہرِ سائنس سیمون مارچی کا کہنا ہے کہ فائیلوسلیکیٹس کی موجودگی پانی کے ساتھ ساتھ اس میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کے عمل کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
عام طور پر پانی کی برف جیسے مادے نظامِ شمسی کے بیرونی حصوں کے انتہائی سرد ماحول میں بنتے ہیں، اس لیے حاصل ہونے والا سپیکٹرل ڈیٹا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ سیارچہ اصل میں اس پٹی کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ماضی میں پانی کی موجودگی کے باعث جزوی تبدیلیاں دیکھنے کے بعد یہاں پہنچا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق کیمیائی تبدیلیوں کا یہ عمل شاید تابکاری کے خاتمے یا پانی کی کمی کی وجہ سے رک گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے مریخ پر پانی کے غائب ہونے کا نیا سبب دریافت کر لیا
اس سیارچے کی ساخت دو بڑے گول حصوں پر مشتمل ہے جو ایک پتلی گردن کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیارچہ ماضی میں کسی شدید ترین ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تقریباً 155 ملین سال پہلے تباہ ہونے والے ایک بہت بڑے خلائی وجود کا ٹکڑا ہے جس کے نتیجے میں ‘ایریگون’ نامی سیارچوں کا خاندان وجود میں آیا تھا۔
اس طرح کی دوہری ساخت والے اجسام پورے نظامِ شمسی میں پائے جاتے ہیں جن میں مختلف دمدار ستارے، زمین کے قریب سے گزرنے والے سیارچے اور بڑے سیاروں کے گرد گھومنے والے چھوٹے چاند شامل ہیں۔














