اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے بین الحکومتی مذاکرات کا عمل جاری ہے، جہاں عالمی طاقتیں، ابھرتی ہوئی معیشتیں اور بین الاقوامی بلاکس کونسل کی ساخت میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے آمنے سامنے ہیں۔
1945 کے بعد سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور 8 ارب سے زائد عالمی آبادی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، کونسل کو مزید بااختیار اور نمائندہ بنانے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ جہاں جی-4 (G4) جیسے ممالک مستقل نشستوں میں توسیع کے خواہا ں ہیں، وہیں پاکستان کی قیادت میں ‘یونائیٹنگ فار کونسنسس’ گروپ کونسل میں کسی بھی نئے مستقل رکن یا ویٹو پاور کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے، جمہوری انتخابات اور غیر مستقل نشستوں میں اضافہ کو ہی سب سے زیادہ متوازن اور پائیدار حل قرار دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کا قیام 1945 میں لیگ آف نیشنز کی ناکامی کے بعد بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کا ابتدائی ڈھانچہ—جس میں پانچ مستقل ارکان (P5) اور چھ منتخب غیر مستقل ارکان شامل تھے—دوسری جنگ عظیم کے بعد کی جیو پولیٹیکل حقیقتوں کا عکاس تھا۔ 1965 کے بعد سے، جب غیر مستقل نشستوں کی تعداد چھ سے بڑھا کر دس کی گئی اور کل رکنیت 15 ہوئی، اس کا ڈھانچہ بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہوا ہے۔ مستقل ارکان کو ویٹو پاور اس لیے دی گئی تھی تاکہ بڑی طاقتیں اقوام متحدہ کے نظام سے منسلک رہیں اور کسی براہ راست تصادم سے بچا جا سکے۔ تاہم، گزشتہ آٹھ دہائیوں میں دنیا میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، اور آج کا بڑا چیلنج کونسل کو 193 ممالک کی عصری دنیا کے مطابق بنانا ہے۔
اصلاحات کی ضرورت اور بین الحکومتی مذاکرات
2008 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین الحکومتی مذاکرات کا فریم ورک شروع کیا، جس کے باقاعدہ دور 2009 میں شروع ہوئے۔ اس کا مقصد تمام ارکان کی منصفانہ نمائندگی اور کونسل میں توسیع تھا۔ اصلاحات کا یہ عمل پانچ کلیدی امور کے گرد گھومتا ہے:
رکنیت کی اقسام، ویٹو پاور، تمام خطوں کی نمائندگی، کونسل کا سائز اور اس کا طرز عمل۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کے خاتمے اور مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت
موجودہ سلامتی کونسل 1945 کے فاتحین کی نمائندہ معلوم ہوتی ہے۔ افریقہ کے پاس کوئی مستقل نشست نہیں ہے، جبکہ لاطینی امریکہ، جنوب ایشیا اور مسلم دنیا کا ایک بڑا حصہ اب بھی مکمل نمائندگی سے محروم ہے۔ یہ ڈھانچہ نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے جو چند ممالک کے ہاتھ میں غیر متناسب طاقت مرکوز کرتا ہے۔ ابھرتی ہوئی علاقائی طاقتوں جیسے پاکستان، برازیل، مصر، جنوبی افریقہ، نائیجیریا، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، میکسیکو اور بھارت کی زیادہ نمائندگی کونسل کی مقبولیت اور افادیت کو بڑھا سکتی ہے۔
دوسری جانب، محض ایک ویٹو کا استعمال کونسل کو مفلوج کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، غاصبانہ اقدامات اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران امریکا کی جانب سے اسرائیل کی پشت پناہی کے لیے ویٹو کا استعمال کونسل کی اعتبار کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس وقت اصلاحاتی بحث چار اہم گروپوں میں تقسیم ہے:
جی-4 (برازیل، جرمنی، بھارت، جاپان): یہ بلاک اپنے لیے اور افریقہ کے لیے مستقل نشستوں سمیت غیر مستقل نشستوں میں توسیع کا خواہاں ہے۔
افریقی گروپ: 54 افریقی ممالک کی یہ تنظیم تاریخی ناانصافی کے ازالے کے لیے ویٹو پاور کے ساتھ 2 مستقل اور 5 غیر مستقل نشستوں کا مطالبہ کرتی ہے۔
فرانس-میکسیکو پہل: یہ P5 ارکان سے درخواست کرتی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر مظالم اور جنگی جرائم کی صورت میں رضاکارانہ طور پر ویٹو کا استعمال نہ کریں۔
یو ایف سی گروپ: پاکستان کی قیادت اور اٹلی، میکسیکو، ارجنٹائن، کینیڈا اور جنوبی کوریا کی حمایت یافتہ یہ تحریک کسی بھی نئی مستقل نشست کی سخت مخالفت کرتی ہے اور اس کے بجائے طویل مدتی و دوبارہ قابلِ انتخاب غیر مستقل نشستوں کی توسیع کی وکالت کرتی ہے۔
مستقل رکنیت میں توسیع پر تشویش
مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے ادارہ جاتی ڈھانچہ بہتر ہونے کے بجائے اقتدار اور مراعات کے نئے مراکز قائم ہو جائیں گے۔
ویٹو پاور کے استعمال نے بارہا ثابت کیا ہے کہ قومی مفادات کے سامنے عالمی سلامتی کے مسائل ثانوی ہو جاتے ہیں۔ مزید مستقل ارکان کی شمولیت سے فیصلے مزید مفلوج ہوں گے۔ مزید برآں، مستقل رکنیت ایک ناقابلِ واپسی عمل ہے؛ ایسے ارکان نہ تو کسی احتساب کے تابع ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا کارکردگی کی بنیاد پر جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
بھارت کی مستقل رکنیت کا دعویٰ اور عالمی خدشات
مستقل رکنیت کا عہدہ عالمی اعتماد اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے، تاہم بھارت کا ریکارڈ اس پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت، پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی، ترجیحات کیا ہوں گی؟
بھارت نے جموں و کشمیر کے تنازع پر سلامتی کونسل کی خود ارادیت اور استصوابِ رائے کی قراردادوں کو یکسر مسترد کر رکھا ہے اور وہاں کی آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم (آرٹیکل 370 اور 35A) کا سہارا لیا ہے۔
بھارت نے نہ صرف کشمیر میں فوجی موجودگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں بلکہ 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدے) کو معطل کر کے معاہدوں سے انحراف کیا ہے۔
کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک نے بھارت کو اپنی سرزمین پر ماورائے عدالت قتل اور منظم مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پایا ہے۔
بھارت میں ہندو توا نظریے کا فروغ، مذہبی عدم برداشت، مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک (جیسے CAA 2020) اور روہنگیا مہاجرین کے ساتھ بدسلوکی عالمی اقدار کے منافی ہے۔
این پی ٹی (NPT) اور سی ٹی بی ٹی (CTBT) پر دستخط نہ کرنے اور تابکار مواد کی چوری کے متعدد واقعات بھارت کے ایٹمی سیف گارڈز پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔
جرمنی کی امیدواری پر تحفظات
اگرچہ جرمنی ایک اہم معاشی طاقت ہے، لیکن یورپ کی پہلے ہی کونسل میں دو مستقل ارکان (برطانیہ اور فرانس) کے ذریعے بھرپور نمائندگی موجود ہے۔ یورپ سے ایک اور رکن شامل کرنے سے جغرافیائی عدم توازن مزید بڑھے گا۔ مزید برآں، غزہ کے معاملے پر جرمنی کے یکطرفہ موقف اور کونسل کے حالیہ غیر مستقل انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر پانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے تمام رکن ممالک کی ہمہ گیر حمایت حاصل نہیں ہے۔
‘یو ایف سی’ کی تجویز ایک متوازن متبادل کیوں؟
پاکستان اور اس کے اتحادیوں کی ‘UfC’ تجویز سلامتی کونسل کی پائیداری کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری اصلاحات کا ایک بہترین راستہ فراہم کرتی ہے:
غیر مستقل منتخب نشستوں کی تعداد 10 سے بڑھا کر 20 کرنے سے افریقہ، ایشیا پیسفک، اور لاطینی امریکا جیسے پسماندہ خطوں کو زیادہ مواقع ملیں گے۔ باقاعدہ انتخابات ارکان کے احتساب کو یقینی بنائیں گے۔ نئے ویٹو ہولڈرز بنائے بغیر کونسل کے فیصلوں کو زیادہ جامع، جائز اور مقبول بنایا جا سکے گا۔ یہ ماڈل جامد نہیں ہے، بلکہ دنیا کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے مطابق ڈھلنے کی لچک رکھتا ہے۔
سلامتی کونسل کی اصلاحات کا اصل مقصد اس کی اثر انگیزی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی عالمی مقبولیت کو بڑھانا ہونا چاہیے۔ مستقل ارکان میں اضافہ صرف نئے طاقتور مراکز پیدا کرے گا اور اصلاحات کی راہ میں مزید رکاوٹ بنے گا۔ لہٰذا، ایک پائیدار اور منصفانہ حل یہی ہے کہ مستقل نشستوں اور ویٹو پاور میں توسیع کے بجائے، جمہوری طور پر منتخب غیر مستقل نشستوں کو بڑھایا جائے تاکہ تمام خطوں کو برابر اور منصفانہ نمائندگی مل سکے۔














