پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے مشال یوسفزئی سے منسوب مبینہ آڈیو میں ٹکٹ فروشی اور دیگر الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ وہ ابھی تک مبینہ آڈیو مکمل طور پر نہیں سن سکے، تاہم ان کے خلاف لگائے گئے الزامات ’جھوٹ اور غلاظت‘ کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کا مناسب فورم پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کیخلاف بیان بازی پر مشال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس دینے کا اعلان
سلمان اکرم راجا نے حکومت کے خلاف جاری احتجاج کے حوالے سے کہا کہ احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی مطالبہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر درخواست کی فوری سماعت ہے، جس میں عمران خان سے ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کی ملاقات کی اجازت طلب کی گئی ہے۔
سلمان اکرم راجا نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں معاملے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی برداشت نہیں کی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جانا چاہیے، وہ رجسٹرار سے ملاقات کریں گے اور چیف جسٹس سے بھی ملاقات کی کوشش کریں گے تاکہ معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرایا جاسکے۔
An alleged audio recording of a heated exchange between PTI Secretary General Salman Akram Raja and PTI Senator Mashal Yousafzai has gone viral on social media.#pakistan #lahore #karachi #islamabad #instagram #love #india #pakistani #instagood #fashion #pakistanifashion #photogr pic.twitter.com/fVcTq1ZJdC
— Aly 🇵🇰🇸🇦🇹🇷🇬🇧 🇳🇱 🇧🇪 🇫🇷 🇨🇭 🇩🇪 🇮🇹 (@iamabdul_ch) August 10, 2026
’او بی بی، میرے خلاف جو لانا ہے لے آؤ‘، پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا اور مشال یوسفزئی کی مبینہ آڈیو لیک
واضح رہے کہ سلمان اکرم راجا اور مشال یوسفزئی سے منسوب سوشل میڈیا پر وائرل مبینہ آڈیو لیک میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ گفتگو سنی جا سکتی ہے۔
سلمان اکرم راجا سے منسوب آواز اپنی سیاسی زندگی اور ذاتی کردار کا دفاع کرتی سنائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کھلی کتاب ہے اور ان کی زندگی کے کسی لمحے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔
دوسری جانب مشال یوسفزئی سے منسوب آواز پارٹی کے قانونی معاملات اور بار کونسلز سے متعلق معاملات پر سخت اعتراضات اٹھاتی ہے۔
مبینہ گفتگو میں پارلیمنٹیرینز کے عدالتوں میں کردار، بار کونسل کے ارکان کے ذریعے دباؤ بڑھانے، ٹکٹوں کے لیے مبینہ طور پر رقم لینے اور لابنگ کے ذریعے ٹیم تشکیل دینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مشال یوسفزئی سے منسوب آواز مبینہ طور پر کنسلٹنسی فیس کی مد میں کروڑوں روپے کے اخراجات پر بھی سوال اٹھاتی ہے اور جواب دہی کا مطالبہ کرتی ہے۔
مبینہ آڈیو میں پی ٹی آئی کے بانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔













