بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کرانوکھا احتجاج

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سینکڑوں حامیوں اور طلبہ نے بھارتی پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے امتحانی بے ضابطگیوں اور بار بار پرچہ لیک ہونے کے واقعات کے خلاف آواز بلند کی اور تھالیاں بجا کہ انوکھے انداز سے شدید احتجاج کیا۔

یہ بھی پڑھیں:’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا امرتسر کے بعد بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران شرکا نے اسٹیل کی تھالیاں اور چمچ بجا کر حکومت کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا۔ اس مظاہرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

سخت سیکیورٹی انتظامات

احتجاج کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے مظاہرے کی نگرانی کے لیے کیمرے اور ڈرونز استعمال کیے جبکہ پارلیمنٹ کے اطراف اضافی نفری تعینات کی گئی۔

تھالی بجانے کا علامتی احتجاج

مظاہرین کی جانب سے تھالیاں بجانے کو وزیر اعظم مودی کے اُس اقدام پر طنز قرار دیا جا رہا ہے جب انہوں نے 2020 میں کووڈ۔19 وبا کے دوران عوام سے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے گھروں کی بالکونیوں اور چھتوں پر برتن بجانے کی اپیل کی تھی۔

پارٹی سربراہ کی حکومت کو وارننگ

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے، جو ایک سیاسی ابلاغی حکمتِ عملی کے ماہر اور بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، نے سوشل میڈیا کے ذریعے حامیوں سے احتجاج میں تھالیاں اور چمچ لانے کی اپیل کی تھی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’دھرمیندر پردھان نامی وائرس کو ختم کرنا ضروری ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیرِ تعلیم مستعفی ہو جائیں تو پارٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

پارٹی کے ایک حامی دیپک کمار نے کہا کہ ’یہ تو صرف آغاز ہے۔ اگر دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہ دیا یا اس معاملے پر کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ احتجاج یہیں ختم نہیں ہوگا‘۔

امتحانی پرچہ لیک ہونے کا تنازع

یہ احتجاج گزشتہ ماہ قومی سطح کے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے کے مبینہ لیک ہونے کے بعد شروع ہونے والے تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ الزام ہے کہ امتحانی پرچہ سوشل میڈیا ایپ ٹیلیگرام کے ذریعے پھیلایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا

واقعے کے بعد حکام نے امتحان ملتوی کر دیا تھا جبکہ ٹیلیگرام پر عارضی پابندی بھی عائد کی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور امتحان اتوار کو منعقد کیا جائے گا۔

طلبہ کا شدید ردعمل

احتجاج میں شریک طالب علم وکی کمار نے کہا کہ ’ہم غربت میں رہتے ہیں، برسوں محنت سے پڑھائی کرتے ہیں اور پھر ہمارے امتحانی پرچے لیک ہو جاتے ہیں۔ کیا مجھے غصہ نہیں آئے گا؟‘۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت میں تیزی

کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز مئی میں اُس وقت ہوا جب سپریم کورٹ کے جج سوریہ کانت کے ایک بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں بعض بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچز‘ سے کیا گیا تھا۔

نوجوانوں نے اس اصطلاح کو مزاحمت اور استقامت کی علامت بنا لیا، جس کے بعد اس تحریک نے انسٹاگرام پر 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کر لیے۔

نوجوانوں کے مسائل کی آواز

ابتدائی طور پر بے روزگاری کے مسئلے پر قائم ہونے والی یہ تحریک اب بڑھتی مہنگائی، بدعنوانی، حکومتی جوابدہی اور نوجوانوں کے حقوق جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر اس تحریک کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت کے نوجوانوں میں روزگار، تعلیم اور حکمرانی کے مسائل پر بے چینی اور ناراضی بڑھ رہی ہے، جو مستقبل میں ایک مؤثر سیاسی آواز کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp