فیفا ورلڈ کپ 2034 سے قبل لاکھوں پاکستانی ورکرز کی تربیت کا بڑا منصوبہ

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان فیفا ورلڈ کپ 2034 سے منسلک منصوبوں کے لیے 3 لاکھ سے 4 لاکھ ورکرز کی تربیت اور تعیناتی کا ہدف رکھتا ہے، جو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے اور عالمی لیبر مارکیٹس میں ملک کی پوزیشن مضبوط بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق ورک فورس پلاننگ کو فیفا ورلڈ کپ 2034 کے باعث پیدا ہونے والی متوقع طلب کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے، جہاں تربیت یافتہ پاکستانی ورکرز سے 2026 سے 2034 کے دوران انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، ایوی ایشن، سیاحت اور متعلقہ سروس سیکٹرز میں معاونت کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ورکرز کے لیے سنہری موقع، کویت نے ورک ویزے جاری کرنے کا اعلان کردیا

یہ اقدام حکومت کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد افرادی قوت کی برآمدات میں اضافہ اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے پاکستانی ورکرز کی مہارتوں کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

سافٹ اسکلز ٹریننگ

جولائی تا مارچ مالی سال 26-2025 کے دوران مجموعی طور پر 2 لاکھ 15 ہزار 719 ورکرز کو سافٹ اسکلز ٹریننگ دی گئی، جس کا مقصد ان کی موافقت، پیداواری صلاحیت اور عالمی سطح پر روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔

دستاویزات کے مطابق بیرونِ ملک روزگار پاکستان کی لیبر مارکیٹ حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے۔

بیرونِ ملک روزگار کے اعداد و شمار

سال 2025 کے دوران بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے 7 لاکھ 62 ہزار 499 ورکرز کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر کیا، جبکہ 1972 سے اب تک 50 سے زیادہ ممالک میں سرکاری ذرائع کے ذریعے ایک کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے ذریعے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی ورکرز میں سے 96 فیصد سے زیادہ گلف کوآپریشن کونسل، یعنی جی سی سی ممالک میں کام کرتے ہیں۔

یہ اوورسیز ورکرز ترسیلاتِ زر کے ذریعے قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، جو برآمدات کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔

سعودی عرب پاکستانی ورکرز کی بڑی منزل

سال 2025 میں سعودی عرب پاکستانی ورکرز کے لیے سب سے بڑی منزل کے طور پر برقرار رہا، جہاں 5 لاکھ 30 ہزار 256 ورکرز گئے، جو اس سال بیرونِ ملک روزگار کی مجموعی رجسٹریشنز کا 69.54 فیصد بنتا ہے۔

سعودی عرب کے ویژن 2030 پروگرام نے انفراسٹرکچر، تعمیرات اور سروسز سیکٹرز میں مواقع کو وسعت دی ہے، جس سے ہنرمند افرادی قوت کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خلیجی خطے سے باہر لیبر پارٹنرشپس

دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان خلیجی خطے سے باہر بھی لیبر موبیلٹی پارٹنرشپس کو وسعت دے رہا ہے۔

پاکستان یورپی یونین مائیگریشن اینڈ موبیلٹی ڈائیلاگ کے تحت پاکستان قانونی مائیگریشن اور ورک فورس تعاون پر یورپی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

اٹلی نے پاکستان کے لیے 3 سالہ مدت کے دوران 10 ہزار 500 سیزنل اور نان سیزنل ورکرز کا کوٹہ اعلان کیا ہے، جبکہ جرمنی اور یونان نے ہنرمند ورکرز پر مرکوز لیبر تعاون کے انتظامات کو باضابطہ شکل دینے کی جانب پیش رفت دکھائی ہے۔

امیگریشن عمل کی ڈیجیٹلائزیشن

حکومت بیک وقت ڈیجیٹل اقدامات کے ذریعے امیگریشن کے عمل کو جدید بنا رہی ہے۔

پاکستان امیگرنٹ مینجمنٹ فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد 14 متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو آپس میں جوڑنا اور آن لائن تصدیقی سسٹمز کے ذریعے بیرونِ ملک روزگار کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: اٹلی کو ہزاروں پاکستانیوں کی ضرورت، کون سے ہنرمند جا سکتے ہیں؟

اس کے علاوہ ڈیجیٹل ایچ آر پول سسٹم کو فعال کردیا گیا ہے تاکہ بائیومیٹرک تصدیق، جاب میچنگ اور شفاف بھرتی کے نظام کو یکجا کیا جا سکے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اسکلز ڈیولپمنٹ، بیرونِ ملک روزگار کی سہولت کاری اور لیبر مارکیٹ اصلاحات میں مسلسل سرمایہ کاری کا مقصد پاکستان کو ابھرتے ہوئے عالمی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے، جبکہ اپنی افرادی قوت کے لیے زیادہ ہنرمند اور زیادہ قدر والے روزگار کے راستے پیدا کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟