گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 نو منتخب ارکان نے آج اپنی رکنیت کا حلف اٹھالیا، جس کے ساتھ ہی 2026 کے عام انتخابات کے بعد نئی اسمبلی کی آئینی مدت کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق افتتاحی اجلاس صبح 9 بجے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا، جہاں انہوں نے اراکین سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
جمہوری عمل کا ایک اھم مرحلہ عبور
گلگت بلتستان اسمبلی کا پہلا اجلاس سابق وزیر اعلی و صدر مسلم لیگ ن گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان اور مسلم لیگ ن کے ممبران اسمبلی اور دیگر ممبران اسمبلی نے حلف اٹھا لیا pic.twitter.com/u0Tz7caZa9— Eman Ansar (@Eman_Ansar___) June 22, 2026
دوسری جانب حکومت سازی کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے آئندہ وزیراعلیٰ کے لیے اپنے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کو باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ خطے کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے کیونکہ پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی نے گلگت ریجن سے تعلق رکھنے والے کسی رہنما کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔

امجد حسین ایڈووکیٹ نے حالیہ انتخابات میں حلقہ جی بی اے-1 گلگت سے کامیابی حاصل کی، جبکہ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 24 میں سے 21 نشستوں پر پیپلز پارٹی 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔
پارٹی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ مخصوص نشستوں اور ٹیکنوکریٹ کوٹے کو شامل کرنے کے بعد اسے ایوان میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔
حکومت سازی کے عمل کو مزید تقویت اس وقت ملی جب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے تفصیلی مشاورت کے بعد گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔
PPP nominates Amjad Hussain Advocate as its candidate for Chief Minister of Gilgit-Baltistan. pic.twitter.com/gRScLQqAL6
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) June 20, 2026
دونوں جماعتوں نے سیاسی استحکام، عوامی فلاح و بہبود اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ کا منصب پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہوگا، جبکہ گورنر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے مسلم لیگ (ن) کو دیے جائیں گے۔
معاہدے کے مطابق قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس رہے گا۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولا طے پا گیا، عہدوں کی تقسیم پر بھی اتفاق
گلگت میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت قائدِ ایوان اور اسپیکر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی بھرپور حمایت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے وسیع تر مفاد، ترقیاتی عمل کے تسلسل اور سیاسی استحکام کے لیے دونوں جماعتوں کا اشتراک ناگزیر ہے۔
The Election Commission of #GilgitBaltistan has officially released the notification for the successful candidates of the #GBelections2026
The notification confirms the final results for general seats, as well as the allocation of reserved seats for women and technocrats.The… pic.twitter.com/ymQokqO1dO
— Gilgit-Baltistan Times (@gbtimes) June 19, 2026
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، نیئر حسین بخاری اور نامزد وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔
امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ممکنہ اتحاد سے متعلق حتمی فیصلہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اقتدار کی شراکت داری کے فارمولے کے بعد امجد حسین ایڈووکیٹ کے بھاری اکثریت سے، یا بلا مقابلہ، قائدِ ایوان منتخب ہونے کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔














