امریکی ملٹی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کوالکوم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کریسٹیانو آمون نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس مستقبل میں اسمارٹ فون صارفین کے ڈیجیٹل خدمات استعمال کرنے کے طریقے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیں گے۔
انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دور میں صارفین کو مختلف ایپس کے درمیان بار بار جانے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ اے آئی ایجنٹس مختلف ایپس اور سروسز کو خودکار طور پر مربوط کر کے کام مکمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے
ان کے مطابق مستقبل میں صارف صرف ایک سادہ ہدایت دے گا جیسے ’میرے لیے ڈنر ریزرویشن کر دو‘ اور اے آئی ایجنٹ نقشہ جات، ریسٹورنٹ سروسز، ادائیگی کے نظام اور ای میل سمیت متعدد پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے مکمل عمل خود انجام دے گا۔
کوالکوم سی ای او نے واضح کیا کہ اس تبدیلی کے باوجود روایتی ایپس مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گی بلکہ ان کا کردار تبدیل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے اے آئی ایجنٹس زیادہ ذہین اور مربوط ہوتے جائیں گے وہ صارف اور ڈیجیٹل سروسز کے درمیان بنیادی انٹرفیس کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ایجنٹس صرف اسمارٹ فونز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسمارٹ چشموں اور دیگر ویئریبل ڈیوائسز تک بھی پھیل جائیں گے جن میں کیمرے اور ڈسپلے موجود ہوں گے۔
آمون کے مطابق مستقبل میں صارف روزمرہ زندگی کے دوران بغیر فون نکالے اپنے اے آئی ایجنٹ کے ذریعے کام مکمل کر سکے گا اور ایجنٹ خودکار طور پر کارروائی مکمل ہونے کی اطلاع فراہم کرے گا۔














