برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر پیر کے روز اپنی رخصتی کے لیے ایک ٹائم لائن کا اعلان کر سکتے ہیں، جس کے بعد ملک میں نئے رہنما کے انتخاب کا عمل شروع ہو جائے گا۔
اگر ایسا ہوا تو برطانیہ ایک دہائی کے دوران اپنا 7واں وزیرِ اعظم منتخب کرے گا۔
لیبر پارٹی کے سابق رہنما اور گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم گزشتہ ہفتے شمال مغربی انگلینڈ میں ہونے والے خصوصی ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد اسٹارمر کی جگہ لینے کے لیے مضبوط ترین امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیئر اسٹارمر کا استعفے سے انکار، اپنی حکومت کو 10 سالہ منصوبہ قرار دیدیا
اس کامیابی کے نتیجے میں اینڈی برنہم دوبارہ پارلیمنٹ میں واپس آ رہے ہیں۔
ضمنی انتخاب کے نتائج کے بعد اسٹارمر نے ابتدا میں کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاہم ہفتے کے اختتام پر ان کے ممکنہ استعفے کی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا۔
UK PM Keir Starmer expected to set out exit timetable https://t.co/S3rgAOHdP9
— Reuters (@Reuters) June 22, 2026
رپورٹس کے مطابق کابینہ کے کئی سینیئر ارکان نے، جن میں وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر، وزیرِ داخلہ شبانہ محمود اور وزیرِ توانائی ایڈ ملی بینڈ شامل ہیں، وزیرِ اعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی روانگی کے بارے میں واضح منصوبہ پیش کریں۔
گزشتہ ماہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی بھاری شکست اور مسلسل کمزور عوامی مقبولیت نے اسٹارمر کی جماعت کے اندر سیاسی حیثیت کو متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیئر اسٹارمر کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر دن گنے جا چکے ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ
مبصرین کے مطابق ان کے استعفے کی صورت میں اینڈی برنہم کے لیے لیبر پارٹی کی قیادت اور وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
برنہم پیر کو رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے میکرفیلڈ ضمنی انتخاب میں ان کی نمایاں کامیابی نے پارٹی کے اندر ان کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔

اسی وجہ سے قیادت کے لیے کسی بڑے مقابلے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ کیئر اسٹارمر استعفیٰ دے دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کیئر اسٹارمر امیگریشن اور توانائی جیسے 2 اہم شعبوں میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

سیاسی ماہرین سمجھتے ہیں کہ برنہم خود کو ویسٹ منسٹر کی روایتی سیاست سے الگ اور عوام کے لیے ایک مختلف متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
تاہم اقتدار میں آنے کے بعد انہیں انہی مالی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جنہوں نے اسٹارمر حکومت کی پالیسیوں کو محدود رکھا۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا دوٹوک مؤقف
ابرڈین کی سینئر سیاسی ماہرِ معاشیات لیزی گالبریتھ کے مطابق برنہم ابتدا میں مالیاتی منڈیوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں گے اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے اسٹارمر اور وزیرِ خزانہ ریچل ریوز کی موجودہ حکمتِ عملی سے زیادہ انحراف نہیں کریں گے۔
ادھر مارکیٹ تجزیہ کار کرس بیوچیمپ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی کمزور مالی حالت کے پیشِ نظر سرمایہ کار کسی بھی ایسی پالیسی کو پسند نہیں کریں گے، جس میں حکومتی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ شامل ہو۔













