برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کو لارڈ پیٹر مینڈلسن سے متعلق اسکینڈل پر اپنی ہی کابینہ کے اندر شدید مخالفت کا سامنا ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت خطرے میں پڑ چکی ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق اسٹارمر کے قریبی اتحادی، جن میں وزیر خزانہ ریچل ریوز بھی شامل ہیں، ان سے ناراض ہیں۔ یہ ناراضی اس وقت بڑھی جب وزیراعظم نے فارن آفس کے اعلیٰ ترین سرکاری افسر سر اولی رابنز کو مینڈلسن کی سیکیورٹی جانچ کے معاملے پر عہدے سے ہٹا دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹیک کمپنیوں پر سروس ٹیکس: ٹرمپ کی برطانیہ پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی
سینئر حکومتی ذرائع نے کہا کہ ’10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پہیہ رک چکا ہے’ اور ‘اب تاثر یہی ہے کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے’۔
رپورٹ کے مطابق کابینہ اجلاس میں متعدد وزرا، جن میں ریچل ریوز، شبانہ محمود، ویس اسٹریٹنگ اور ڈیوڈ لیمی شامل تھے، نے اسٹارمر پر وزرا اور سرکاری افسران کے درمیان ‘ہم اور وہ’ جیسی تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا۔
رپورٹ کے مطابق لیبر پارٹی کے اندر اب اسٹارمر کی ممکنہ جگہ لینے کے لیے ویس اسٹریٹنگ اور انجیلا رینر کے نام زیر بحث ہیں، جبکہ مقامی انتخابات میں متوقع شکست ان کی مشکلات مزید بڑھا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے میں امن کوششوں پر تبادلہ خیال
ایک لیبر رکن پارلیمنٹ جوناتھن بریش نے کھل کر کہا کہ اب سوال یہ نہیں کہ اسٹارمر جائیں گے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کب جائیں گے۔
ادھر سابق کابینہ سیکریٹریز اور سفارتی شخصیات نے بھی سر اولی رابنز کی برطرفی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کیمی بیڈنوک نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مینڈلسن معاملے پر اسٹارمر کو پارلیمانی مراعاتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر لیبر پارٹی کو آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان ہوا تو اسٹارمر کی وزارتِ عظمیٰ مزید کمزور ہو سکتی ہے۔














