کیئر اسٹارمر کا استعفے سے انکار، اپنی حکومت کو 10 سالہ منصوبہ قرار دیدیا

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی قیادت کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ایک 10 سالہ منصوبہ ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کا یہ بیان بلدیاتی انتخابات میں اسٹارمر کی لیبر پارٹی کی گزشتہ 3 دہائیوں میں کسی بھی حکمران جماعت کی بدترین شکست کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: مقامی انتخابات میں حکمران جماعت کو بھاری نقصان، وزیراعظم اسٹارمر کا مستعفی ہونے سے انکار

دوسری جانب دائیں بازو کی عوام پسند جماعت ریفارم یو کے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جس کے بعد لیبر پارٹی کے اندرکیئر اسٹارمر کو ہٹانے کی آوازیں تیز ہوگئی ہیں۔

اسٹارمر کی سابق وزیر کیتھرین ویسٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیر تک کابینہ نے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے اقدامات نہ کیے تو وہ پارٹی اراکین کی حمایت حاصل کرکے قیادت کے انتخاب کا مطالبہ کریں گی۔

پارٹی قوانین کے مطابق قیادت کو چیلنج کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے 20 فیصد، یعنی 81 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، جبکہ اب تک تقریباً 30 ارکانِ پارلیمنٹ اسٹارمر کی قیادت پر کھل کر تنقید کرچکے ہیں۔

اخبار آبزرور کو انٹرویو دیتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ وہ اگلے عام انتخابات میں بھی نہ صرف لیبر پارٹی کی قیادت کریں گے بلکہ دوسری مدت بھی پوری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جولائی 2024 میں ملنے والی عوامی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی ملک کو سیاسی انتشار میں دھکیلیں گے۔

اگر آنے والے ہفتوں میں اسٹارمر کو ہٹا دیا گیا تو گزشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کو 7واں وزیراعظم مل جائے گا۔

مزید پڑھیں: کیئر اسٹارمر کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر دن گنے جا چکے ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

بلدیاتی انتخابات میں شکست کے باوجود وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی کابینہ اب تک ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر تعلیم بریجٹ فلپسن نے کہا کہ وزیراعظم حالات بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پیر کو اپنی تقریر میں برطانیہ کے لیے نئی سمت پیش کریں گے۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ووٹرز نے لیبر پارٹی کو سخت سبق دیا ہے اور پارٹی کو سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔

دوسری جانب بعض بائیں بازو کے لیبر اراکین نے فوری قیادت کی تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر ‘پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے’ کی تحقیقات سے بچ گئے

سابق پارٹی رہنما جیریمی کوبائن کے دور میں معاشی امور کے سربراہ رہنے والے جون مکڈونیل نے کہا کہ کچھ حلقے پس پردہ صورتحال کا فائدہ اٹھا کر جلد بازی میں قیادت کی جنگ شروع کرانا چاہتے ہیں۔

جبکہ رکن پارلیمنٹ ایان بائرن نے خبردار کیا کہ جلد بازی میں کیا گیا اقدام پارٹی کے ایک مخصوص گروہ کے حق میں استعمال ہوسکتا ہے۔

ادھر اینڈی برن ہیم، جنہیں بائیں بازو کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس وقت رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں، اس لیے اگر جلد انتخاب ہوا تو وہ اس میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی، سیاسی عمل سے جوڑنا درست نہیں : رانا ثنااللہ

طالبان رجیم کی ناعاقبت اندیشی: افغان لیبر مارکیٹ میں خواتین کا حصہ کم ہوکر صرف 5 فیصد رہ گیا

حکومت کا ایک ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ، ٹی سی پی کو تیاریوں کی ہدایت

اداکارہ میرا کا گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد، ویڈیو وائرل، پولیس کا مؤقف بھی سامنے آگیا

بھارتی صحافی پروین ساہنی کی بالی ووڈ کی پروپیگنڈا فلموں پر کڑی تنقید، سال 2029 تک حالات بدلنے کی بھی پیشگوئی

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد