دنیا کی معاشی تاریخ طاقت، وسائل اور ان کی تقسیم کی تاریخ ہے۔ یہ سوال ہمیشہ موضوعِ گفتگو رہا کہ دولت کس کے پاس ہونی چاہیے اور اس کے فوائد کس تک اور کیسے پہنچنے چاہئیں۔ کیپٹلزم اور سوشلزم اسی سوال کے دو بڑے تاریخی جواب ہیں، لیکن اکیسویں صدی میں یہ دونوں ماڈل مکمل رہنمائی فراہم نہیں کر رہے۔
سوشلزم ایک ایسا معاشی تصور ہے جس میں ریاست یا حکومت وسائل کی ملکیت اور تقسیم میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد معاشی عدم مساوات کو کم کرنا اور تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق تک ہر شہری کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم عملی تجربات میں ریاستی معیشتوں میں کارکردگی کے مسائل اور انتظامی نقائص بھی سامنے آئے ہیں۔
اس کے برعکس کیپٹلزم نجی ملکیت، آزاد منڈی اور منافع کے اصول پر قائم نظام ہے۔ اس میں سرمایہ کاری اور مقابلہ جدت اور کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں، جو ترقی کو تیز کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی دولت کا ارتکاز اور معاشی و سماجی عدم مساوات بھی ایک مستقل چیلنج کے طور پر موجود رہتے ہیں۔
اسی عدم توازن نے عالمی سطح پر یہ احساس پیدا کیا کہ محض معاشی ترقی کافی نہیں، بلکہ ترقی سے ہر فرد مستفید ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs)کا تعین کیا گیا۔ ان اہداف کا مرکزی تصور یہ ہے کہ غربت، بھوک، صحت، تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مسائل کو عالمی سطح پر ایک مربوط فریم ورک کے ذریعے حل کیا جائے، تاکہ ترقی کے ثمرات دنیا کے ہر فرد کو میسر آ سکیں۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو عالمی معاشی نظام اکثر طاقت کے بل بوتے پر وسائل کے حصول سے عبارت رہا ہے۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کے وسائل اور تجارت پر قبضہ کیا، جس نے عالمی تجارت کے ڈھانچے کو یکطرفہ بنایا۔
عراق جنگ سمیت مختلف تنازعات کو توانائی اور جغرافیائی مفادات کے حصول بذریعۂ طاقت کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے، جس سے یہ بحث مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ عالمی نظام واقعی آزاد تجارت پر مبنی ہے یا طاقت کے زور پر۔
چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ایک نئے ورلڈ آرڈر کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں باہمی رابطوں کے استحکام کے لیے سڑکوں، ریلوے لائنوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور فائبر آپٹک انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعے ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑا جا رہا ہے۔
اس تصور کے تحت 3 براعظموں کے 60 سے زائد ممالک غور و خوض کے بعد باقاعدہ معاہدوں کے تحت تجارت اور وسائل کے اشتراک کے ذریعے ترقی کے سفر میں مل کر آگے بڑھنے اور مشترکہ خوشحالی کا نیا نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں معاشی نظام ان دونوں نظریات کا امتزاج رہا ہے۔ ایک طرف پی آئی اے اور ریلوے جیسے ادارے شروع سے سرکاری ملکیت میں رہے، جبکہ دوسری طرف نجی شعبے نے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی انسانی حقوق، جن کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، انہیں کاروبار کی شکل دے دی۔
حالیہ برسوں میں پی آئی اے کی نج کاری اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نج کاری کو درست معاشی حکمت عملی پر عمل درآمد کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تمام حکومتی اداروں میں اصلاحات کے بغیر اہم معاشی اہداف کا حصول بہت مشکل ہوگا۔
اسی تناظر میں یہ سوال لائقِ توجہ ہے کہ مستقبل کا معاشی نظام کیا ہوگا؟ کیپٹلزم اور سوشلزم دونوں اپنی خوبیاں اور خامیاں ظاہر کر چکے ہیں۔ اس لیے مستقبل کا جھکاؤ ایک ایسے ماڈل کی طرف نظر آتا ہے جو مارکیٹ کی کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے ریاست کو بنیادی انسانی حقوق، مساوات اور سماجی تحفظ کا ضامن بنائے۔
بظاہر اکیسویں صدی کی معیشت نہ خالص سوشلزم کی طرف بڑھ رہی ہے اور نہ ہی مکمل کیپٹلزم کی جانب، بلکہ ایک ایسے متوازن نظام کی تلاش جاری ہے جس میں معاشی ترقی اور سماجی انصاف دونوں کو یکجا کیا جا سکے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














