امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل انٹیلیجنس اتحاد Five Eyes نے خبردار کیا ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت ( اے آئی) ماڈلز سائبر سیکیورٹی کے لیے فوری اور سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور اس حوالے سے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
’فائیو آئیز‘ کے نام سے معروف انٹیلیجنس اتحاد نے ایک تین صفحات پر مشتمل بیان میں کہا کہ ’فرنٹیئر اے آئی ماڈلز سے توقع ہے کہ وہ صنعت کی موجودہ توقعات سے آگے نکل جائیں گے اور سائبر حملوں اور دفاعی صلاحیتوں دونوں میں بنیادی تبدیلی لے آئیں گے۔ اس کی مدت برسوں کی نہیں بلکہ چند مہینوں کی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے
بیان میں تفصیلات کم تھیں اور زیادہ تر روایتی سائبر سیکیورٹی مشوروں کو دہرایا گیا تھا جیسے کہ سافٹ ویئر کی خامیوں کو فوری طور پر درست کرنا (پَیچ لگانا) اور غیر ضروری نظاموں کو انٹرنیٹ سے منسلک نہ کرنا۔
حکام نے دفاعی اداروں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اے آئی کا استعمال اپنی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے کریں مثلاً کمزوریوں کی جلد نشاندہی کرنے یا سائبر حملوں کے جواب میں تیزی لانے کے لیے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دینے کا اعلان
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی حکام کو خدشہ ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز پیچیدہ اور تباہ کن سائبر حملوں کو مزید آسان بنا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بعض مبینہ ماڈلز کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں Anthropic کا ‘Mythos’ اور OpenAI کا ‘GPT-5.5-Cyber’ شامل ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جدید ہیکنگ صلاحیتوں کو تیز کر سکتے ہیں۔
اسی ماہ کے آغاز میں امریکی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے خدشات کے باعث بعض اے آئی ماڈلز تک غیر ملکی رسائی محدود کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جبکہ امریکی سائبر سیکیورٹی ادارے CISA نے حساس سیکیورٹی خامیوں کو دور کرنے کی ڈیڈ لائن کم کر کے تین دن کر دی جس کی وجہ اے آئی سے بڑھتے ہوئے خطرات کو قرار دیا گیا۔














