فرانس میں مقیم ایک بھارتی خاتون کی سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہوگئی ہے جس میں انہوں نے رات گئے اکیلے گھر واپس جاتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرنے کے تجربے کو بیان کیا۔ ان کی ویڈیو نے خواتین کی سلامتی، آزادی اور مختلف ممالک میں عوامی تحفظ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کِس می ہیئر‘، کولکتہ کی سڑک پر آسٹریلوی سیاح سے ہراسانی، ویڈیو وائرل
بھارتی خاتون شبھانگی ویاس نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اپنی گریجویشن (کانووکیشن) کی تقریب اور کالج کی جانب سے منعقدہ پارٹی کے بعد صبح تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر اکیلے گھر واپس جاتی دکھائی دیتی ہیں۔
ویڈیو میں وہ ننگے پاؤں سڑک پر چلتے ہوئے کہتی ہیں کہ آج میرا کانووکیشن تھا جس کے بعد کالج نے ہمارے لیے ایک پارٹی کا اہتمام کیا۔ اس وقت صبح ساڑھے 4 بجے ہیں اور میں ننگے پاؤں گھر جا رہی ہوں۔ مجھے نہ کوئی تنگ کر رہا ہے، نہ ہراساں کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی یہ پوچھ رہا ہے کہ میں اس وقت باہر کیوں ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمانداری سے بتاؤں تو ایسی حفاظت اور آزادی آخر کہاں محسوس کی جا سکتی ہے؟
View this post on Instagram
ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جہاں متعدد صارفین نے خواتین کے تحفظ سے متعلق مختلف آرا کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیے: آسٹریلوی کرکٹر ٹریوس ہیڈ اور اہلیہ جیسیکا کو آن لائن ہراسانی کا سامنا کیوں؟
دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً جنوبی ایشیا میں، خواتین کے لیے رات کے وقت اکیلے باہر نکلنا اب بھی ایک حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں بہت سی خواتین رات گئے تنہا سفر کرتے ہوئے یا گھر واپس آتے وقت عدم تحفظ، ہراسگی اور جرائم کے خدشات کے باعث بے چینی محسوس کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں کسی خاتون کو رات میں اکیلی جاتے دیکھ کر کچھ مردوں کا مختلف منفی آرا کا قائم کرلینا بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
اسی وجہ سے اکثر خواتین رات کے وقت اکیلے سفر کرنے سے گریز کرتی ہیں یا اپنے اہلخانہ اور دوستوں کو اپنی لوکیشن اور سفر کی تفصیلات سے آگاہ رکھتی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کا بلاخوف و خطر کسی بھی وقت سڑکوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر آزادانہ نقل و حرکت کرنا کسی بھی معاشرے میں امن، مؤثر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی اعتماد کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: خواتین کرکٹ ٹیم کے کوآرڈینیٹر پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات، تحقیقات شروع
شبھانگی ویاس کی ویڈیو نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ خواتین کے لیے حقیقی معنوں میں محفوظ عوامی ماحول کی فراہمی صرف قوانین ہی نہیں بلکہ مؤثر عمل درآمد، بہتر شہری منصوبہ بندی، عوامی شعور اور معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی سے بھی ممکن ہے۔














