جنوبی کوریا میں دروازے بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں؟ غیر ملکی شہری نے حیران کن تجربات بیان کر دیے

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی کوریا میں مقیم ایک غیر ملکی شہری نے وہاں کے عوامی اعتماد اور امن و امان سے متعلق اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک میں لوگوں کو اپنی اشیا چوری ہونے کا خوف تقریباً نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ روزمرہ زندگی میں غیر معمولی حد تک بے فکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رات گئے بھی اکیلی گھر واپس آئی کسی نے ہراساں نہیں کیا، بھارتی خاتون کا فرانس میں تجربہ

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں اس شخص نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ماہ سے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ جنوبی کوریا میں مقیم ہے اور اس دوران کئی ایسے واقعات دیکھے جنہوں نے عوامی تحفظ کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر بدل کر رکھ دیا۔

اس نے لکھا کہ جب بھی وہ کسی جگہ جاتے ہیں تو بچوں کی اسٹرولر (بچی کی گاڑی) باہر ہی چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ کوئی اسے چوری نہیں کرے گا۔

اس نے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دوست کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر ملا جو اپنی سائیکل پر آیا تھا۔ دوست نے سائیکل بغیر کسی تالے کے ایک گلی میں کھڑی کر دی اور تقریباً 2 گھنٹے بعد واپس آیا تو سائیکل وہیں موجود تھی۔

اسی طرح اس کے ایک دوست کا آئی فون ایک پارک کی بینچ پر رہ گیا تھا لیکن جب وہ تقریباً 4 گھنٹے بعد واپس آیا تو موبائل فون اسی جگہ محفوظ رکھا ہوا تھا۔

مزید پڑھیے: کراچی میں چلتی گاڑی سے بکرا چوری، حیران کن واردات کی ویڈیو وائرل

اس شخص نے مزید بتایا کہ ایک کنسرٹ کے قریب اس نے دیکھا کہ سیئول سے باہر سے آنے والے مداح اپنے سوٹ کیس اور دیگر سامان بغیر کسی تالے یا نگرانی کے سب وے اسٹیشن کے باہر چھوڑ کر تقریب میں شریک ہو گئے تھے۔

اس کے مطابق جب اس نے مقامی لوگوں سے پوچھا کہ انہیں سامان چوری ہونے کا خوف کیوں نہیں ہوتا تو ان کا جواب تھا کہ آخر کوئی دوسرے کا سامان کیوں لے گا؟

اس نے لکھا کہ دنیا کے بہت سے شہروں میں ایسے مناظر کا تصور بھی مشکل ہے لیکن جنوبی کوریا جیسے اعتماد پر مبنی معاشرے (ہائی ٹرسٹ سوسائٹی) میں قوانین، سماجی اقدار اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام اس قدر مضبوط ہے کہ چوری کو انتہائی سنجیدہ جرم سمجھا جاتا ہے خواہ چیز کی مالی قیمت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔

مزید پڑھیں: لکھنؤ کے بعد ممبئی ایئرپورٹ پر بھی حجاج کا سامان چوری، مسافروں کا شدید احتجاج

یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی، جہاں مختلف افراد نے عوامی اعتماد اور سماجی رویوں پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ میں امریکا کی ریاست وسکونسن کے ایک چھوٹے شہر میں رہتا ہوں وہاں بھی لوگوں کے درمیان اسی طرح کا اعتماد پایا جاتا ہے۔

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ہمیں بھی ایسے معاشرے کی طرف بڑھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: بار بی کیو اشیا کی چوری کی رپورٹ، پولیس کو موقع پر ’قصوروار‘ لومڑی مل گئی

جبکہ ایک تیسرے صارف کا کہنا تھا کہ امریکا کے کئی چھوٹے شہروں میں بھی لوگ اسی طرح بے فکری سے اپنی اشیا چھوڑ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp