ہرات سے یورپ تک احتجاج، طالبان کی خواتین مخالف پالیسیوں کو بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مذمت کے درمیان طالبان حکومت نے اپنی جبری اخلاقی نگرانی کی پالیسیوں کو قومی خودمختاری کا معاملہ قرار دے کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا جب اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان ’یوناما‘ نے تصدیق کی کہ ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو گرفتار کیا گیا، جبکہ خواتین کے احتجاجی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے دبانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

لازمی حجاب کو خودمختاری قرار دینے کی کوشش

طالبان کے ترجمان سیف الاسلام نے لازمی حجاب کو قومی خودمختاری کا معاملہ قرار دینے کی کوشش کی، تاہم ناقدین کے مطابق یہ مؤقف اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ طالبان حکومت ثقافت اور مذہب کی آڑ میں صنفی امتیاز کو ریاستی سطح پر ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے۔

خودمختاری کا بیانیہ یا صنفی امتیاز

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے بار بار قومی خودمختاری کا حوالہ دینا درحقیقت ادارہ جاتی صنفی امتیاز اور افغان خواتین کے منظم استحصال پر سیاسی پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قومی خودمختاری کسی بھی حکومت کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ خواتین کو من مانے انداز میں گرفتار کرے، لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھے، پرامن احتجاج کو کچلے یا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں کرے۔

’اگر عوامی حمایت حاصل ہوتی تو جبر کی ضرورت نہ پڑتی‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طالبان حکومت کی یہ پالیسیاں واقعی افغان معاشرے کی خواہشات کی عکاسی کرتیں تو انہیں ان پر عملدرآمد کے لیے اخلاقی پولیس، من مانی گرفتاریاں، مسلح گشت اور فائرنگ جیسے اقدامات کی ضرورت پیش نہ آتی۔

ہرات میں کم از کم 30 خواتین کی گرفتاری کی تصدیق

اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان ’یوناما‘ نے تصدیق کی ہے کہ ہرات میں مبینہ طور پر حجاب کی خلاف ورزی کے الزام میں کم از کم 30 خواتین کو گرفتار کیا گیا، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ طالبان کی مہم درحقیقت اخلاقی حکمرانی نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں جاری خواتین کے خلاف جبر ہے۔

’مسئلہ حجاب نہیں بلکہ خواتین کو عوامی زندگی سے بے دخل کرنا ہے‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ حجاب نہیں بلکہ طالبان حکومت کی وہ دانستہ حکمت عملی ہے جس کے تحت خواتین کو جبر، دھونس اور قانونی امتیاز کے ذریعے عوامی زندگی کے ہر شعبے سے باہر نکالا جا رہا ہے۔

طالبان حکومت بار بار مذہب اور قومی خودمختاری کا حوالہ دیتی ہے، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ کوئی بھی مذہبی یا ثقافتی جواز من مانی گرفتاری، صنفی امتیاز اور بنیادی آزادیوں سے منظم محرومی کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔

افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں برقرار

افغانستان آج بھی دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 22 لاکھ سے زیادہ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ اگست 2021 سے اب تک طالبان حکومت خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے 230 سے زیادہ احکامات اور ہدایات نافذ کر چکی ہے۔

طالبان پالیسیوں کے خلاف ملک کے اندر اور بیرونِ ملک احتجاج

ہرات میں ہونے والے احتجاج اور یورپ، شمالی امریکا سمیت مختلف ممالک میں ہونے والے مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کی پالیسیاں نہ صرف عالمی برادری بلکہ خود افغان عوام بھی مسترد کر رہے ہیں۔

جبر اور طاقت کے استعمال کے باوجود طالبان حکومت اپنے لیے عوامی یا بین الاقوامی جواز پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ہر نیا حکم عالمی تشویش میں اضافہ کر رہا ہے

طالبان حکومت کا ہر نیا حکم، ہر نئی گرفتاری اور ہر نئی پابندی اس بڑھتے ہوئے عالمی اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ طالبان حکومت افغان شناخت کا تحفظ نہیں کررہی بلکہ جبر، صنفی امتیاز اور خوف کو اپنے طرز حکمرانی کی بنیاد بنا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp