بی آئی ایس پی اور بیت المال کی ڈیجیٹلائزیشن جاری، بلوچستان کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے، عمران شاہ

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران شاہ نے کہا ہے کہ وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ مستحق طبقات کی معاونت کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق فلاحی پروگراموں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان بیت المال کی بنیاد 1991 میں میاں نواز شریف نے رکھی تھی جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا آغاز 2008 میں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے زیادہ تر کٹ موشنز بیت المال اور بی آئی ایس پی سے متعلق تھے۔

مزید پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  سیاسی وابستگی سے بالاتر تمام مستحقین کی مدد کررہا ہے، روبینہ خالد

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے اور صوبے میں پی ایم ٹی اسکور کی حد 32 سے بڑھا کر 60 کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کی 25 موبائل رجسٹریشن وینز میں سے 17 بلوچستان میں تعینات ہیں جبکہ ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد ڈائنامک رجسٹریشن سینٹرز فعال ہیں، جن میں سے 160 بلوچستان میں قائم ہیں۔

سید عمران شاہ نے کہا کہ پاکستان بیت المال کے 73 تعلیمی اداروں میں طلبہ کو وظائف دیے جا رہے ہیں، جن میں 21 ادارے بلوچستان میں واقع ہیں۔ اسی طرح نشوونما پروگرام کے 568 سہولت مراکز میں سے 100 سے زائد بلوچستان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بی آئی ایس پی کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے اور مستحقین کو رقوم کی ادائیگی ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے کی جائے گی، جس سے کٹوتیوں اور شکایات کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان بیت المال کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے اور شفافیت وزارت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کفالت، تعلیمی وظائف اور نوجوان پروگرام کامیابی سے جاری ہیں جبکہ بینظیر ہنرمند پروگرام میں قریباً 40 ہزار نوجوان زیر تربیت ہیں اور مستفید ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کو حکومت پاکستان کی جانب سے براہِ راست فنڈنگ فراہم نہیں کی جاتی اور یہ قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنارہا ہے، اس سے بچنا چاہیے، رانا مشہود

سید عمران شاہ نے کہا کہ پاکستان بیت المال کے وظائف اور علاج کی سہولیات آن لائن دستیاب ہیں، جہاں مستحق طلبا اسکالرشپ اور مریض علاج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مستحق افراد ان سہولیات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارتِ تخفیفِ غربت اور اس کے ذیلی ادارے عوام کی رہنمائی کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں اور مستحق افراد تک سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات جاری رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp