5 ہزار روپے کے نوٹ پر قائداعظم کے ساتھ نواز شریف کی تصویر شامل کرنے کی تجویز، ماضی میں کب ایسے مطالبات ہوئے؟

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی (ایم پی اے) ارشد ملک نے تجویز پیش کی ہے کہ 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی تصویر بھی شائع کی جائے۔

رکنِ صوبائی اسمبلی کا مؤقف ہے کہ نواز شریف نے ملک کی معاشی ترقی، انفراسٹرکچر منصوبوں اور ایٹمی پروگرام کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا، لہٰذا ان کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور جدید سیکیورٹی فیچرز پر کام کر رہا ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے تاحال کسی بھی نوٹ پر قائداعظم کے علاوہ کسی اور سیاسی شخصیت کی تصویر شامل کرنے سے متعلق کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد جاری کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے 5 ہزار کے نوٹ پر قائداعظم کے ساتھ نواز شریف کی تصویر بھی لگنی چاہیے، ن لیگی رکن کا مطالبہ

واضح رہے کہ موجودہ 5,000 روپے کے نوٹ پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر موجود ہے اور اس کی سیکیورٹی خصوصیات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ معیار کے مطابق ہیں۔

سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر اس تجویز پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری فیصلہ یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

ماضی میں پاکستان میں نوٹوں اور سکوں پر شخصیات کی نمائندگی کی تاریخ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک رکنِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے پانچ ہزار روپے کے نوٹ پر سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی تصویر شامل کرنے کی اس تجویز نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا قومی کرنسی پر قائداعظم محمد علی جناح کے علاوہ دیگر سیاسی یا قومی شخصیات کو بھی جگہ ملنی چاہیے۔

اگر پاکستان کی کرنسی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں باقاعدہ کرنسی نوٹوں پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، جبکہ دیگر شخصیات کو صرف یادگاری سکوں یا خصوصی یادگاری نوٹوں تک محدود رکھا گیا۔

باقاعدہ کرنسی نوٹوں پر قائداعظم کی روایت

پاکستان میں 1950 اور 1960 کی دہائیوں سے لے کر آج تک جاری ہونے والے باقاعدہ کرنسی نوٹوں پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر موجود رہی ہے۔ ملکی تاریخ میں آج تک کسی دوسرے سیاسی رہنما کی تصویر مستقل طور پر عام کرنسی نوٹ پر شائع نہیں کی گئی۔

2003: فاطمہ جناح کے اعزاز میں یادگاری سکہ

سن 2003 میں جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر 10 روپے کا ایک یادگاری سکہ جاری کیا گیا۔ یہ ان چند مواقع میں سے ایک تھا جب قائداعظم کے علاوہ کسی قومی شخصیت کی تصویر سرکاری سطح پر کرنسی سے متعلق اشاعت پر نمایاں کی گئی۔

2008: بینظیر بھٹو کی یاد میں خصوصی سکہ

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد 2008 میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی یاد میں ایک یادگاری سکہ جاری کیا گیا۔ اس اقدام کو پارٹی کی جانب سے اپنی قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے طور پر دیکھا گیا، تاہم ان کی تصویر کو باقاعدہ کرنسی نوٹوں کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

مختلف شخصیات کو کرنسی پر شامل کرنے کی تجاویز

مختلف ادوار میں سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ تحریکِ پاکستان اور قومی تاریخ سے وابستہ شخصیات کو بھی کرنسی پر جگہ دی جائے۔ ان ناموں میں ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، لیاقت علی خان اور غازی علم دین شہید سمیت متعدد شخصیات شامل رہی ہیں، تاہم کوئی بھی تجویز عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔

2022: 75 روپے کے یادگاری نوٹ پر دیگر رہنماؤں کو شامل کرنے کی تجویز

2022 میں پاکستان کے 75ویں یومِ آزادی کے موقع پر جاری کیے گئے 75 روپے کے یادگاری نوٹ کے اجرا کے دوران بھی یہ بحث سامنے آئی تھی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے بعض ارکان نے رائے دی تھی کہ صرف ایک یا چند شخصیات کے بجائے دیگر قومی رہنماؤں کو بھی کرنسی پر نمائندگی دی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں بے نظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو اور لیاقت علی خان کے نام بھی زیرِ بحث آئے تھے۔ تاہم یہ معاملہ تجاویز اور مباحث تک محدود رہا۔ حکومت یا اسٹیٹ بینک کی جانب سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔

2024: ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر کرنسی نوٹ پر شامل کرنے کا مطالبہ

مئی 2024 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سابق وزیراعظم اور پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو قومی ہیرو قرار دے کر ان کی تصویر کرنسی نوٹوں پر شائع کی جائے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس میں ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے سے متعلق اپنی رائے دی تھی۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ آئینِ پاکستان کی تشکیل، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے اور جمہوری جدوجہد میں کردار کے باعث بھٹو کو قومی سطح پر مزید اعزاز دیا جانا چاہیے۔ تاہم اس مطالبے کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:میاں نواز شریف کے نام پر اس سال کتنے نئے پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں؟

پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ جس طرح دنیا کے مختلف ممالک اپنی تاریخ کے اہم قومی رہنماؤں کو کرنسی پر جگہ دیتے ہیں، اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یہ اعزاز ملنا چاہیے۔ تاہم مخالف سیاسی جماعتوں اور بعض ماہرین نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں کرنسی پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر قومی وحدت، ریاستی تسلسل اور غیر متنازع قومی شناخت کی علامت ہے، اس لیے اس روایت میں تبدیلی سیاسی تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔

ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کرنسی پر شخصیات کی نمائندگی کا موضوع نئی بحث نہیں، تاہم اب تک قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر ہی قومی کرنسی کی مستقل اور متفقہ علامت کے طور پر برقرار ہے۔

حالیہ تجویز اور اس کی اہمیت

5 ہزار روپے کے نوٹ پر نواز شریف کی تصویر شامل کرنے کی حالیہ تجویز اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم ماضی کی روایت، اسٹیٹ بینک کی پالیسی اور پاکستان کی کرنسی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ قائداعظم کی تصویر کو قومی وحدت اور ریاستی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی لیے کسی سیاسی رہنما کی تصویر کو باقاعدہ کرنسی نوٹ کا حصہ بنانا ایک غیر معمولی اور متنازع فیصلہ تصور کیا جائے گا۔

غیر ملکی شخصیات کی تصاویر

پاکستانی کرنسی کی تاریخ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں کچھ غیر ملکی شخصیات کو بھی اعزاز دیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ (2015)

2015 میں پاک چین دوستانہ تبادلے کے سال کے موقع پر 20 روپے کا یادگاری سکہ جاری ہوا، مگر اس پر شی جن پنگ کی تصویر شامل نہیں کی گئی۔

ترک صدر مصطفیٰ کمال اتاترک

1981 میں اتاترک کی صد سالہ سالگرہ پر پاکستان نے ان کے اعزاز میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ یادگاری سکوں کے حوالے سے پاک ترک تعلقات کی مناسبت سے علامتی سکے جاری ہوئے، لیکن اتاترک کی تصویر والا کوئی تصدیق شدہ سکہ نہیں ملا۔

پاکستان کی مانیٹری تاریخ واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ باقاعدہ کرنسی نوٹوں پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر ہی مستقل روایت رہی ہے۔ اگرچہ مختلف اوقات میں متعدد قومی اور سیاسی شخصیات کو یادگاری سکوں اور خصوصی نوٹوں پر جگہ دی گئی، لیکن آج تک کسی سیاسی رہنما کی تصویر مستقل طور پر پاکستانی کرنسی نوٹ پر شامل نہیں کی گئی۔ اسی تناظر میں نواز شریف کی تصویر 5 ہزار روپے کے نوٹ پر شامل کرنے کی حالیہ تجویز کو سیاسی بحث کا موضوع تو قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی عملی اور روایتی حیثیت اب بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی انٹیلیجنس ادارے میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں، قومی سلامتی پر سوال اٹھ گئے

ریکارڈ توڑ ہیٹ ویو سے یورپ جھلس گیا، فرانس میں 18 افراد ہلاک، 2 بچے گرم گاڑی میں دم توڑ گئے

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا پروپیگنڈا بے نقاب، عدالتی فیصلوں کو متنازع بنا کر نوجوانوں کو ریاست مخالف بیانیے کی طرف دھکیلنے کی کوشش

29 جون کی رات آسمان پر سجے گا منفرد ’اسٹرابیری مون‘

میسی نے فیفا ورلڈ کپ میں کون کونسے ریکارڈ اپنے نام کرلیے؟ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے تفصیل جاری کردی

ویڈیو

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

عالمی رہنماؤں کی پاکستان سے غیر معمولی محبت، پشاور کےشہری کیا کہتے ہیں؟

ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا