منگل کے روز مقامی حکام نے بتایا کہ روسی فضائی حملوں میں رات کے وقت یوکرین میں کم از کم 6 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ روس میں جاری ایندھن کا بحران سائبیریا کے بعض علاقوں تک مزید گہرا ہو گیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب پیر کے روز یوکرین نے روس کے سرحدی علاقے وورونژ میں ایک ایسے کارخانے پر حملہ کیا تھا جو میزائلوں کے لیے الیکٹرونک آلات تیار کرتا ہے۔
مقامی گورنر کے مطابق اس حملے میں 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں، جو اب 5ویں سال میں داخل ہو چکی ہے، دونوں جانب سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
اسی دوران یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغربی اتحادیوں سے امن معاہدے کے لیے حمایت کی اپیل کی ہے اور یورپی یونین میں فوری شمولیت کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق جنوبی مشرقی علاقے زاپوریزھیا پر روسی حملے میں دو افراد نے طبی امداد حاصل کی، جبکہ شمالی علاقے سومی میں پیر کی رات مزید 3 افراد زخمی ہوئے۔
Russian strikes injure six in Ukraine as fuel crisis deepens into Siberia https://t.co/4H7Mevadv6
— The Straits Times (@straits_times) June 23, 2026
شہر خارکیف میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہو گئی۔ دارالحکومت کیف میں منگل کی صبح مختصر وقت کے لیے فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔
زیلنسکی نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ روس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ ایسے حملے باقاعدگی سے کرتا ہے۔
روس کا یوکرین پر مکمل حملہ فروری 2022 میں شروع ہوا تھا، تاہم ان تازہ حملوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
روس میں ایندھن کا بحران مزید سنگین
یوکرین کی جانب سے بحری لاجسٹکس اور سپلائی راستوں پر حملوں کے باعث روس اور اس کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
یوکرین کے فضائی حملوں نے روس کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جن کے اثرات 2,000 کلومیٹر سے زیادہ دور سائبیریا تک پہنچ گئے ہیں۔
یہ بحران کریمیا سے شروع ہو کر وسطی اور مشرقی روس تک پھیل چکا ہے، جبکہ نووسیبیرسک اور اومسک جیسے سائبیریائی علاقے بھی اس کی زد میں ہیں۔
مزید پڑھیں: کینیا کے شہریوں کی یوکرین میں فوجی بھرتی بند کرنے پر روس کا اتفاق
اومسک کے حکام نے پیٹرول کی فروخت محدود کر دی ہے، جہاں ہر گاڑی کو زیادہ سے زیادہ 40 لیٹر پیٹرول جبکہ ڈیزل 80 سے 200 لیٹر تک فراہم کیا جا رہا ہے۔
ساتھ ہی فیول کنٹینرز میں بھرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور افواہ پر مبنی خریداری روکی جا سکے۔
نووسیبیرسک میں بھی اسی نوعیت کی پابندیاں متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ روس کی بڑی تیل کمپنیوں میں سے ایک لوک آئل نے وورونژ میں پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت محدود کر دی ہے۔
اضافی پیشرفت
روسی وزارت دفاع کے مطابق روسی اسٹریٹجک میزائل بردار بمبار طیاروں کے ساتھ غیر ملکی جنگی طیاروں نے بھی بارنٹس اور ناروے سمندر کے نیوٹرل زون میں 16 گھنٹے کی پرواز کے دوران حفاظتی اسکواڈرن کے طور پر حصہ لیا۔
روس کی جنگ کے باعث یورپ نے دفاعی اخراجات بڑھا دیے ہیں اور ڈرونز کی مشترکہ پیداوار کے لیے یوکرین کے ساتھ تعاون بھی بڑھایا ہے۔
سویڈن اور فن لینڈ نیٹو میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ روس کی سرحدیں ناروے اور فن لینڈ جیسے نیٹو ممالک سے ملتی ہیں۔














