طارق طافو، پنجاب کی ثقافتی آواز خاموش ہوگئی

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی موسیقی ایک اور درخشاں ستارے سے محروم ہوگئی۔ اپنے لازوال پنجابی گیت ’لاہور لاہور اے‘ کے ذریعے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے معروف گلوکار، موسیقار اور میوزک پروڈیوسر طارق طافو 22 جون 2026 کو 58 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی خبر نے موسیقی، ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقوں سمیت لاکھوں مداحوں کو سوگوار کر دیا۔

مزید پڑھیں: ایک تھی آشا

خاندانی ذرائع کے مطابق طارق طافو کی طبیعت اچانک ناساز ہوئی اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ بعض اطلاعات کے مطابق انہیں شدید پیٹ درد کی شکایت ہوئی تھی جس کے بعد ان کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین منگل کو لاہور میں کی گئی۔

طارق طافو کا تعلق پاکستان کے ایک ممتاز موسیقار گھرانے سے تھا۔ وہ نامور موسیقار، کمپوزر اور طبلہ نواز استاد الطاف حسین المعروف استاد طافو خان کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے موسیقی ورثے کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے نئی نسل تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ موسیقی ان کے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ خاندانی روایت اور زندگی کا حصہ تھی۔

اپنے فنی سفر کے دوران طارق طافو نے گلوکاری، موسیقی ترتیب دینے اور اسٹیج پرفارمنس کے میدان میں منفرد شناخت بنائی۔ اگرچہ ان کے کئی گیت مقبول ہوئے، تاہم ’لاہور لاہور اے‘ نے انہیں غیر معمولی شہرت بخشی۔ یہ گیت آج بھی لاہور کی ثقافتی شناخت اور پنجابی موسیقی کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ’بریک اپ‘ اور ’ڈینگی ونگوں لڑ گئی ایں‘ جیسے گیت بھی عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔

طارق طافو کی ایک اور اہم پہچان یہ تھی کہ وہ عظیم غزل گائیک استاد غلام علی کے داماد تھے۔ وہ مختلف مواقع پر اس بات کا اعتراف کرتے رہے کہ انہوں نے موسیقی کے میدان میں بہت کچھ استاد غلام علی سے سیکھا اور انہیں اپنی ’یونیورسٹی‘ قرار دیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی گائیکی میں کلاسیکی تربیت اور لوک رنگ کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا تھا۔

انہوں نے پاکستان کے علاوہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا میں بھی پرفارم کیا اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ وہ ثقافتی اور موسیقی کی تقریبات میں بھرپور انداز میں شریک رہتے تھے اور نوجوان فنکاروں کی حوصلہ افزائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ گزشتہ ہفتے بھی وہ لاہور میں منعقدہ موسیقاروں اور گلوکاروں کی ایک تقریب میں شریک ہوئے جہاں انہیں استاد غلام علی کے ہاتھوں اعزازی تحائف پیش کیے گئے۔

مزید پڑھیں: ’لہور لہور اے‘ گیت سے شہرت پانے والے معروف گلوکار طارق طافو انتقال کرگئے

موسیقی کے حلقوں میں طارق طافو کو ایک ایسے فنکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے پنجابی لوک موسیقی کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئی نسل تک پہنچایا۔ ان کی جاندار اسٹیج پرفارمنس، منفرد آواز اور ثقافتی وابستگی نے انہیں عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت دلائی۔ ان کے انتقال پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ طارق طافو موسیقی کی دنیا کا ایک بڑا نام تھے جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کے بقول ’لاہور لاہور اے‘ نے طارق طافو کو عالمی شہرت دی جبکہ انہوں نے درجنوں نئے فنکاروں کی سرپرستی اور رہنمائی بھی کی۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ طارق طافو جیسے فنکار کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا اور موسیقی کے شعبے میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مرحوم اپنے سوگواران میں اہلیہ، ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی وفات سے پاکستانی موسیقی خصوصاً پنجابی لوک گائیکی ایک ایسے فنکار سے محروم ہوگئی ہے جس نے اپنی آواز سے لاکھوں دلوں کو مسحور کیا۔ طارق طافو تو رخصت ہوگئے، لیکن ’لاہور لاہور اے‘ سمیت ان کے یادگار نغمے آنے والی نسلوں تک ان کی یاد کو زندہ رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا یو این سیکریٹری جنرل کی امیدوار سے رابطہ، یواین قراردادوں پر دیانتدارانہ عملدرآمد پر زور

اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد لڑکی کے قتل کیس میں 5 رشتہ داروں کی سزائیں برقرار رکھ دیں

’صرف ڈگری نہیں، بچوں کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں‘، عدنان صدیقی کا والدین کو نصیحت بھرا پیغام

2027 میں 9 نئے ایموجیز متعارف کرائے جائیں گے، اچار اور شہابِ ثاقب بھی شامل

حکومت نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نئے سفری قوانین نافذ کر دیے

ویڈیو

عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی لیاری آمد، فٹبال اور باکسنگ کے فروغ کے لیے اکیڈمی بنانے کا عندیہ

گورنر ہاؤس میں ’ارفع کریم اے آئی سمر کیمپ‘، جہاں بچے مستقبل کی ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری