پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے کو مزید تباہی سے بچایا گیا بلکہ پاکستان ایک ذمہ دار، بالغ اور مؤثر سفارتی قوت کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ پاکستان 28 فروری سے مسلسل اس عمل پر کام کر رہا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے مستقل مزاجی سے سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے متعدد دورۂ ایران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے رابطے اور وزیراعظم کے مختلف ممالک کے دوروں نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر ظفر نواز نے کہا کہ ثالثی سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان خطے کی ایک اہم طاقتور ریاست ہے جو سیاسی اور سفارتی سطح پر پیچیدہ تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکا، چین، روس اور دیگر علاقائی ممالک بھی پاکستان کے کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جسپال نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک بھارتی صحافی نے پاکستان کو چین کی کالونی قرار دینے کی کوشش کی تو پیوٹن نے واضح کیا کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس سارے عمل میں اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھا اور اسے قابل اعتماد بھی بنایا، جس کے باعث جنیوا میں معاہدے پر دستخط کے وقت پاکستانی قیادت کی موجودگی نے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔

معاہدہ مستقل شکل اختیار کرے گا

ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے امید ظاہر کی کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت مستقل معاہدے میں تبدیل ہو جائے گی، جس سے مغربی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن، معاشی تعاون اور سیاسی استحکام کو فروغ ملے گا۔

ان کے مطابق ایران اور امریکا دونوں اس معاہدے کو مستقل شکل دینا چاہتے ہیں، اگرچہ اسرائیل اور بعض دیگر عناصر اس کے مخالف ہیں، تاہم وہ اس عمل کو ناکام بنانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام سے پاکستان کو بھی معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ ایران پر پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن سمیت متعدد علاقائی منصوبوں پر پیش رفت ممکن ہوگی اور پاکستان کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔

پراکسی جنگوں کا خطرہ برقرار رہے گا

ڈاکٹر جسپال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ بعض مخالف ممالک بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پراکسی جنگوں کے ذریعے ان مواقع کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق بلوچ اور پختون عوام کو حکومت کے ساتھ مل کر ایسے عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ٹرمپ کے بیانات معاہدے کو ڈی ریل نہیں کریں گے

انہوں نے کہا کہ 1979 سے ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد موجود ہے، اس لیے مذاکراتی عمل میں اتار چڑھاؤ آنا فطری امر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق امریکا اور ایران دونوں کے اندر ایسے حلقے موجود ہیں جو معاہدے کے مخالف ہیں، تاہم یہ اختلافات پورے عمل کو ناکام نہیں بنائیں گے اور مذاکراتی عمل آگے بڑھتا رہے گا۔

ایران مضبوط طاقت کے طور پر ابھرا

ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ ایران اس بحران سے ایک مضبوط طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اگرچہ جنگ اور پابندیوں نے اس کی معیشت کو نقصان پہنچایا، تاہم ایرانی قیادت نے استقامت اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی بلکہ عرب ممالک کو بھی قائل کیا کہ وہ ایران کے خلاف محاذ نہ کھولیں۔ اگر عرب ممالک چاہتے تو ایران کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی تھی، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

خلیجی خطے میں نئی صف بندیاں

ڈاکٹر جسپال کے مطابق خطے کا سیکیورٹی ڈھانچہ تبدیل ہو چکا ہے اور امریکی سیکیورٹی چھتری پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔ اسی وجہ سے خلیجی ممالک نئے علاقائی انتظامات پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی تعاون بڑھ رہا ہے جبکہ مصر میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی اسی نئی علاقائی سوچ کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں سلامتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کا عالمی مقام مزید مستحکم ہوا

ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کی جبکہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے بحران میں مؤثر سفارتی کردار ادا کر کے اپنی سیاسی اہمیت بھی منوا لی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی عالمی سطح پر اہم سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسے مزید سنجیدگی سے لیا جائے گا کیونکہ اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی حفاظت کر سکتا ہے بلکہ پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی بھی کر سکتا ہے۔

معاشی بہتری کے لیے داخلی اصلاحات ضروری

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جسپال نے کہا کہ ایران پر پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو معاشی مسائل کے حل کے لیے خود اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف ایک مالیاتی ادارہ ہے جو قرض دیتا ہے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی معاشی حکمت عملی، وسائل کے بہتر استعمال، تجارت کے فروغ، تحقیق و ترقی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس مواقع موجود ہیں، نوجوان آبادی اس کی بڑی طاقت ہے اور اگر درست سمت میں پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو ملک معاشی ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر ظفر نواز جسپال کے مطابق موجودہ علاقائی ماحول پاکستان کے لیے سازگار ہے اور اگر ان مواقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو ملک سیاسی، سفارتی اور معاشی سطح پر مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خلیج میں تیل کی ترسیل بحال، عالمی منڈی میں خام تیل سستا

’فلرز نے ایشوریہ اور کترینہ کی قدرتی خوبصورتی چھین لی‘، نادیہ خان نے یہ بات کیوں کہی؟

پاکستان اور ایران کا سیکیورٹی و انسداد دہشتگردی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

سعودی کابینہ نے پاکستان کے ساتھ فضائی نقل و حمل کے معاہدے کی منظوری دے دی

ایران سے متعلق قرارداد نے میرا کام مشکل بنادیا، مگر مقصد حاصل کر کے رہوں گا، ٹرمپ

ویڈیو

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی، امریکا ایران پائیدار امن معاہدے تک پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا