معروف پاکستانی اداکارہ اور میزبان نادیہ خان نے بالی ووڈ اداکاراؤں ایشوریہ رائے اور کترینہ کیف کے مبینہ کاسمیٹک پروسیجرز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری تبدیلیاں بعض اوقات قدرتی خوبصورتی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
نادیہ خان نے اپنے مارننگ شو میں ایک ڈرماٹولوجسٹ سے گفتگو کے دوران نادیہ خان نے کاسمیٹک پروسیجرز کے ممکنہ اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ذہن میں یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ کہیں وہ بھی معروف شخصیات کی طرح ایسے نتائج کا سامنا نہ کریں جو ان کی ظاہری شخصیت کو متاثر کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان
نادیہ خان کا کہنا تھا کہ کاسمیٹک پروسیجرز کروانے سے پہلے ہمارے ذہن میں ایک خوف آتا ہے کہ کہیں ہمارا چہرہ بھی ایشوریا رائے اور کترینہ کیف کی طرح خراب نہ ہو جائے۔ وہ دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں شمار ہوتی تھیں، لیکن پروسیجرز کی وجہ سے ان کے چہرے متاثر ہوئے، تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟ مزید یہ کہ ان کے چہرے دوبارہ اپنی اصل حالت میں بھی واپس نہیں آئے۔ اس کیفیت کو کیا کہتے ہیں؟ کیا اسے ‘پلو فیس’ (Pillow Face) کہا جاتا ہے؟ آخر ان کے ساتھ ہوا کیا تھا؟
View this post on Instagram
اس موقع پر پروگرام میں موجود ڈرما ٹولو جسٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر قسم کے ڈھیلے پن یا جھریوں کے لیے فلرز ضروری نہیں ہوتے۔ اگر آپ چہرے کے ہر حصے میں فلرز شامل کرتے جائیں تو چہرہ خراب ہو سکتا ہے اور غیر معمولی طور پر بڑا نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح اگر چہرے پر ڈھیلا پن یا ابھار موجود ہوں تو ان پر کتنے فلرز لگائے جا سکتے ہیں؟ ان کی شکل اس لیے تبدیل ہوئی کیونکہ انہوں نے فلرز کا استعمال کیا، کوئی اور سرجری نہیں کروائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’بس بہت ہو گیا‘، نادیہ خان کی فنکاروں کو آخری وارننگ، قانونی کارروائی کی دھمکی
ڈرما ٹولو جسٹ کا مزید کہنا تھا کہ چہرے میں آنے والی بعض تبدیلیاں فلرز کے زیادہ استعمال کا نتیجہ ہو سکتی ہیں جبکہ ہر صورت میں سرجری کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نادیہ خان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے جہاں کچھ افراد نے ان کی رائے سے اتفاق کیا جبکہ بعض صارفین نے اسے ذاتی معاملات پر غیر ضروری تبصرہ قرار دیا۔














