بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع رام مندر کے چندے میں 200 کروڑ بھارتی روپے کی خردبرد کے الزامات سامنے آنے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے عوامی عقیدت سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں:ایودھیا میں رام مندر، ہندوتوا پروجیکٹ کی تکمیل پر انتہا پسندوں کا جشن
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض سیاسی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ رام مندر میں جمع ہونے والے چندے اور نذرانوں کے استعمال میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور 200 کروڑ روپے تک کی رقم میں خردبرد کی گئی۔ تاہم مندر انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
اتر پردیش حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) قائم کر رکھی ہے، جس نے ابتدائی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے چندے کے ریکارڈ، رقم گننے کے نظام اور مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
The UP government created a Special Investigation Team to investigate the robbery inside Ram Mandir funds and finished the investigation within a week with no FIR or arrests.
🤡🤡🤡
pic.twitter.com/33DgY76zHL— Mr IG (@Iswarguru85) June 24, 2026
مزید پڑھیں:ایودھیا میں متنازع رام مندر کے افتتاح پر بھارتی مورخ کا انتباہ
اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس اور دیگر رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کسی ہائیکورٹ کے جج کی نگرانی میں کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
رام مندر بھارت کے سب سے بڑے مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں روزانہ ہزاروں عقیدت مند بڑی مقدار میں نقد رقم، سونا، چاندی اور دیگر نذرانے پیش کرتے ہیں۔














