مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ حساس، انہیں حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، رانا ثنااللہ

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق مولانا فضل الرحمان کی گفتگو انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور حکومت قومی معاملات پر ان کی رہنمائی اور تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف تحریکِ آزادی کشمیر تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور نظریاتی تشخص سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس حوالے سے کسی قسم کی غلط فہمی یا ابہام کو جنم نہیں لینا چاہیے۔

مزید پڑھیں:ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو کی رانا ثنا اللہ سے ملاقات، علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کے معاملے کو جس سنجیدگی اور جذبے کے ساتھ اٹھایا، وہ قابلِ قدر ہے۔ قومی ایشوز پر ان کی دانش اور تجربے سے ماضی میں بھی استفادہ کیا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی کیا جاتا رہے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بعض حقائق ایسے ہیں جنہیں مکمل تناظر میں دیکھنے اور مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کشمیر اور قومی مفادات سے متعلق معاملات پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے، جبکہ قومی مسائل کے حل کے لیے اتفاقِ رائے اور باہمی مشاورت ناگزیر ہے۔

انہوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے بعض مواقع پر احتجاج اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، تاہم حکومت نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور افہام و تفہیم کی پالیسی اپنائی۔ ان کے مطابق احتجاجی تحریک کے دوران 2 بنیادی مطالبات سامنے آئے تھے جن میں منگلا ڈیم معاہدے اور دیگر انتظامی امور سے متعلق نکات شامل تھے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے معاملات سیاسی، آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت حل ہونے چاہئیں۔ جلسے جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے بجائے کمیٹیوں، مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف فریقین پر مشتمل ایک 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں حکومت اور ایکشن کمیٹی دونوں کے نمائندے شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ستمبر 2025 میں مختلف مطالبات اور تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعدد معاملات پر پیشرفت بھی ہوئی۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے امور پر حکومت اور نمائندہ کمیٹیوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری رہی۔ اس دوران مہاجرین کی نشستوں، انتخابی نظام، بجلی کے نرخ، گندم کی قیمتوں اور دیگر عوامی مطالبات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور اس پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ مہاجرین کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا مناسب نہیں ہوگا، اس لیے اس مسئلے کا ایسا متوازن حل تلاش کرنا ضروری ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس معاملے کو آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں لے جا کر حل کرنے کی تجویز دی گئی ہے کیونکہ اسمبلی ہی اس نوعیت کے فیصلوں کے لیے موزوں اور آئینی فورم ہے۔ کسی بھی یکطرفہ فیصلے سے سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:علیمہ خان ڈیل کا کیا بنا؟ کیا رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی سے کوئی کھیل کھیل رہے ہیں؟

انہوں نے زور دیا کہ مہاجرین کے حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے اور سیاسی مسائل کو ادارہ جاتی اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کرنا ہی دیرپا استحکام کی ضمانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام معاملات کو آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے کی خواہاں ہے اور خطے میں استحکام کے لیے سیاسی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ سیاسی مسائل کا مستقل حل مکالمے، برداشت اور افہام و تفہیم میں ہے، جبکہ کشمیر جیسے حساس قومی معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’مولانا کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا ہوں‘، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ مکالمہ

آئینی ترمیم سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، بلاول بھٹو زرداری

خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟

ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا