اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ایک مرتبہ پھر خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا، جہاں انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔
صبح 10 بج کر 5 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 652.68 پوائنٹس یعنی 0.37 فیصد اضافے کے بعد 178,345.60 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان غالب، انڈیکس میں 500 پوائنٹس کا اضافہ
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔
کے الیکٹرک، ماری انرجی، او جی ڈی سی ایل، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +337.88 points this morning. Current index is at 178,030.81 points (9:45 AM) pic.twitter.com/64RxZnAeZn— Investify Pakistan (@investifypk) June 24, 2026
گزشتہ روز یعنی منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی تھی کیونکہ خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے متعلق غیر یقینی کیفیت کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔
منافع کے حصول اور بڑے شعبوں میں فروخت کے دباؤ کے سبب مسلسل دوسرے سیشن میں مارکیٹ خسارے میں بند ہوئی تھی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 778.95 پوائنٹس یا 0.44 فیصد کمی کے بعد 177,692.92 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار، سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط
دوسری جانب عالمی مارکیٹوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں بدھ کے روز اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔
ایک روز قبل عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں فروخت کے دباؤ کے بعد تجزیہ کاروں نے مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.02 فیصد نیچے رہا۔

جنوبی کوریا کی مارکیٹ، جو منگل کو مارچ کے بعد اپنی بدترین یومیہ گراوٹ کے دوران 10 فیصد تک گر گئی تھی، بدھ کو 2.2 فیصد بحال ہوئی۔
جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی منافع اور خسارے کے درمیان جھولتا رہا اور آخرکار 0.8 فیصد کمی پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔
وال اسٹریٹ میں بھی سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا، مصنوعی ذہانت پر قرض لے کر بڑھتے ہوئے اخراجات اور اس خدشے کے باعث کہ امریکی فیڈرل ریزرو مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کر سکتا ہے، امریکی حصص بازاروں میں مندی دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
ادھر تیل کی قیمتوں میں بھی ہفتے بھر سے جاری کمی کا سلسلہ برقرار رہا۔ خام تیل کی قیمتیں گزشتہ سیشن میں دیکھی گئی 4 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہیں۔
اس کی وجہ یہ توقعات ہیں کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد خلیجی علاقے میں پھنسے مزید آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کر دیں گے، جس سے سپلائی کے خدشات میں کمی آئے گی۔














