گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہو گئی ہے اور امجد حسین ایڈووکیٹ بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کئی روز تک گلگت بلتستان میں موجود رہے۔

انہوں نے تقریباً ہر حلقے میں جلسے کیے اور حکومت بننے کی صورت میں گلگت بلتستان کے مسائل حل کرنے اور ترقی کے لیے کام کرنے کے وعدے کیے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب، امجد ایڈووکیٹ بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب

انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے، تاہم نئی حکومت کو متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام سے روزگار، بنیادی سہولیات، سیاحت کے فروغ، بجلی کے بحران کے خاتمے اور آئینی حقوق کے حوالے سے متعدد وعدے کیے تھے۔

اب عوام کی نظریں نئی حکومت کی کارکردگی پر مرکوز ہیں کہ وہ ان وعدوں کو کس حد تک عملی جامہ پہناتی ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کے مطابق انہیں طویل عرصے سے کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔

ان میں سب سے نمایاں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے، جو گرمیوں اور سردیوں دونوں موسموں میں معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔

اس کے ساتھ آئینی حقوق بھی ایک اہم اور دیرینہ مطالبہ ہے، عوام کے مطابق متعدد علاقوں میں لوگ کئی کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہتے ہیں، جس کے باعث صنعت، تجارت اور سیاحت کا شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

’روزگار سب سے بڑا مسئلہ‘

 یونیورسٹی سے فارغ التحصیل شہاب احمد کے نزدیک نوجوانوں کے لیے روزگار سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس پر مقامی حکومت توجہ نہیں دے رہی۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہاب احمد نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شرحِ خواندگی نسبتاً زیادہ ہے اوراعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوان روزگار کے لیے دربدر اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں یہ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت ہے، لیکن ابھی تک روزگار کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے، ان کے مطابق اسمبلی مکمل طور پر خودمختار نہیں ہے۔

’پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدے کیے ہیں، جن سے نوجوان طبقے کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔‘

شہاب احمد کے مطابق، پیپلز پارٹی کی ایک تاریخ ہے کہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور اس بار بھی ہمیں اس سے امیدیں ہیں۔

ہنزہ سے تعلق رکھنے والے واجد خان بھی شہاب احمد سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق روزگار اس خطے کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔

خودمختاری اور مالی پیکیج

گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

گلگت شہر کے رہائشی مجید افنان کے مطابق انتخابات کے دنوں میں سیاسی جماعتیں سرگرم ہو جاتی ہیں اور گلگت کو یورپ بنانے کے دعوے کرتی ہیں، لیکن بعد میں کوئی نظر نہیں آتا۔

ان کے نزدیک خودمختاری ایک اہم مسئلہ ہے، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ایک خودمختار صوبے کا درجہ ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنے وسائل کے مطابق فیصلے کر سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر انداز میں کام کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت وفاق کے ماتحت ہے اور زیادہ تر فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں، جنہیں یہاں نافذ کر دیا جاتا ہے۔

’ہم چاہتے ہیں کہ صوبہ خودمختار ہو اور فیصلے گلگت بلتستان میں ہی کیے جائیں۔‘

مجید افنان نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے، اس لیے نئی حکومت کو ایک خصوصی مالی پیکیج متعارف کرانا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے۔

سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر

دوسری جانب شہاب احمد کے مطابق سیاحت گلگت بلتستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم سیاحتی مقامات تک رسائی، سڑکوں کی خستہ حالی، صحت اور ہنگامی خدمات کی کمی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چوتھی بار حکومت میں آئی ہے، لیکن ان مسائل پر خاطر خواہ توجہ نظر نہیں آتی۔

ان کے مطابق گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن خراب سڑکیں اور کمزور انفرا اسٹرکچر اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر

شہاب احمد نے کہا کہ حکومت سیاحتی انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنائے تاکہ مقامی معیشت کو مزید فروغ مل سکے، جبکہ پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران اس حوالے سے وعدے بھی کیے تھے۔

ان کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، دور دراز علاقوں میں اسپتالوں، ڈاکٹروں، ادویات اور تعلیمی اداروں کی کمی ہے، جبکہ کئی افراد علاج اور تعلیم کے لیے ملک کے دیگر صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp