غزہ میں تعیناتی کی تیاری، مراکش کا فوجی و پولیس دستہ اسرائیل پہنچ گیا

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے لیے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس یعنی آئی ایس ایف میں شامل ہونے والے مراکشی فوجی افسران اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس سے وابستہ ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مراکشی دستہ 18 جون کو جنوبی اسرائیل میں قائم انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے ہیڈکوارٹر پہنچا۔

عہدیدار کے مطابق یہ دستہ فورس کے مجموعی ڈھانچے کی تشکیل میں معاونت کرے گا اور پولیسنگ سمیت مختلف شعبوں میں اپنی مہارت فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینا ہوں گے، ٹرمپ انتظامیہ نے 60 ممالک کو چارٹر بھیج دیا

انہوں نے 4 مراکشی فوجی افسران کی موجودگی کی تصدیق کی، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وفد میں مزید اہلکار بھی شامل ہیں یا نہیں۔

بورڈ آف پیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان افسران کی آمد غزہ کے عوام کی حمایت کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو مزید مضبوط بنائے گی۔

یاد رہے کہ فروری میں مراکش نے غزہ میں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وہ ایسا کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا تھا جس نے اس فیصلے کا کھلے عام اظہار کیا۔

جنوری کے وسط میں واشنگٹن نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کا مستقل خاتمہ تھا۔

تاہم عملی طور پر اس منصوبے پر محدود پیش رفت ہی ہو سکی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق یافتہ اس منصوبے کے نتیجے میں اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: غزہ پیس آف بورڈ میں روسی صدر پیوٹن کے شامل ہونے کے امکانات پر برطانیہ کا ردعمل سامنے آگیا

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیلی افواج کا بتدریج غزہ سے انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنا اور بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی شامل ہے، تاہم یہ فورس تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔

فروری کے آخر میں حماس نے کہا تھا کہ اگر ایسی فورس غزہ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے تو وہ اس کی موجودگی پر آمادہ ہے، حماس 2007 سے غزہ پر کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ غزہ کی کم از کم 70 فیصد اراضی پر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ جنگ بندی کے پہلے روز انخلا کے بعد یہ تناسب نصف سے کچھ زیادہ تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا غزہ میں انسانی بحران اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید اظہارِ تشویش

اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر تقریباً روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہیں، جبکہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم 1,027 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ اس وزارت کے اعداد و شمار کو عمومی طور پر قابلِ اعتماد سمجھتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں اس کے 5 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp