نومبر 2020 کے بعد سے مغربی دنیا میں آزادیِ اظہار کا دائرہ بہت تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ ایسا فقط سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ مین اسٹریم میڈیا کی سطح پر بھی ہو رہا ہے۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ اس ’کارِ خیر‘ کا آغاز ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی جیت کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ وہی ڈیموکریٹک پارٹی جو امریکا میں لبرل نظریے کی وارث ہے۔ اس رگڑے کی زد میں وہ ٹکر کارلسن بھی آیا، جسے پرائم ٹائم میں 35 لاکھ افراد دیکھ رہے تھے۔
اظہار پر بندش کا یہ سلسلہ شروع ہوا تو ریپبلکنز نے اس پر سخت تنقید کی اور خود کو سوشل میڈیا پر زیادہ مؤثر انداز میں منظم کر لیا۔ لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا دورِ اقتدار شروع ہوا تو وہی بائیڈن والی پالیسی انہوں نے بھی برقرار رکھی۔
اظہار پر قدغن کی اس مہم کے لیے غزہ کی صورتحال کا خاص طور پر استعمال کیا گیا۔ فلسطین کی حمایت اور اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی کا نام دے کر ’آہنی ہاتھ‘ کا بھرپور استعمال عمل میں لایا گیا۔
جب اسی مغرب میں اظہارِ رائے پر برے دن آ گئے، جس نے فری اسپیچ کی چھوٹ اس حد تک دے رکھی تھی کہ توہینِ رسالت جیسے شرانگیز عمل کو بھی اس کا تحفظ حاصل تھا، تو ہم نے اس معاملے پر سنجیدہ غور شروع کیا۔
اس غور کے لیے ہمیں اپنا ’صحافتی گاؤن‘ اتارنا پڑا، کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے ہمارا مفاد اس غور کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ یہ گاؤن اتارتے ہی شعور نے پہلی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ بچہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو مناسب ذخیرہ الفاظ پر قادر ہوتے ہی ہر گھر میں پہلا سبق اسے یہ پڑھایا جاتا ہے کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں۔
فقط یہی نہیں، بلکہ یہ بھی کہ کب بولنا ہے اور کب نہیں۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ یہ بھی کہ کس طرح بولنا ہے اور کس طرح نہیں۔ سو، یہ اصول تو عین فطرت کے آغاز پر ہی طے پا گیا کہ ’فری اسپیچ‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی؛ ہر مہذب چیز کی طرح اسپیچ کی بھی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں۔
یہ اصول بڑے بچوں یعنی صحافیوں اور کالم نگاروں پر یوں لاگو نظر آتا ہے کہ امریکی صحافی کسی بھی موضوع پر فری اسپیچ کا شوق پورا فرما لیتے ہیں، مگر اس موضوع پر ایک لفظ زبان یا قلم سے نہیں نکالتے کہ کیلیفورنیا، نیو میکسیکو اور ہوائی وغیرہ کس طرح امریکہ کا حصہ بنے تھے؟
وہ اس موضوع پر اس لیے نہیں بولتے کہ معاشرتی علوم صرف پاکستان میں نہیں چھپتے؛ یہ ہر ملک میں پائی جاتی ہے، بس نام مختلف ہوتے ہیں۔ یہیں سے یہ تصور نکلا ہے کہ ریاستوں کی ایک ہوتی ہے سچ پر مبنی تاریخ اور دوسرا ہوتا ہے قومی موقف، جس کی تاریخ سے مطابقت ذرا کم ہی ہوتی ہے۔
فری اسپیچ کے معاملے میں مغرب کا معاملہ بس اتنا سا ہے کہ جب یہ طاقت کے عروج پر تھے تو داخلی سطح پر چیزیں ان کے کنٹرول میں تھیں۔ یہ میڈیا کو بہت آسانی سے مینج کر لیا کرتے تھے اور میڈیا سسٹم کی مان کر چلا کرتا۔
اس عرصے میں انہوں نے عالمی استعمار کے طور پر میڈیا کو امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے لڑنے والی فورس میں بدل ڈالا اور ’میڈیا وار‘ کی اصطلاح ایجاد کر ڈالی۔
چنانچہ معتوب یا مخالف ممالک کے سربراہوں سے پریس کانفرنسز کے دوران اکڑ کر سوال کرنا ان کی فطرتِ ثانیہ بن گئی۔ خود پاکستان کے خلاف ’وار آن ٹیرر‘ والے دور میں جھوٹ کے کون سے پلندے ہیں جو انہوں نے شائع نہیں کیے؟
مغرب کے اس طریقہ واردات سے نمٹنے میں جس درجے کی مہارت جدید سنگاپور کے معمار لی کوان یو نے دکھائی، وہ انہی کا خاصہ ہے۔
لی کوان یو20 ویں صدی کے بڑے سیاسی مدبرین میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کے مقامی ہی نہیں، بلکہ غیر ملکی میڈیا کو بھی کنٹرول کیا تھا۔ مگر اس طرح نہیں، جس طرح ہمارے ہاں وقتاً فوقتاً کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، بلکہ وہ اس مغربی تصورِ صحافت کے مقابلے میں اپنا مربوط، معقول اور مدلل تصور لائے تھے۔
اس تصور کو پیش کرنے اور اس کا دفاع کرنے کے لیے وہ واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب تک گئے، جہاں غیر ملکی سربراہ نہیں جاتے۔
ان کا 1988 کا وہ ’میٹ دی پریس‘ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ امریکا کے صفِ اول کے صحافی ان کے استدلال کے آگے مکمل بے بس نظر آئے۔ لی کوان یو کا تصور اس اصول پر کھڑا تھا:
’پریس کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ منتخب حکومت کی جگہ خود سیاسی طاقت بن جائے۔ میں آزادیِ صحافت کا مخالف نہیں ہوں، لیکن میں اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ اخبارات منتخب حکومت کے متبادل سیاسی ادارے بن جائیں۔‘
اس اصول کے حق میں وہ یہ دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ حکومت تو عوام منتخب کرتے ہیں، اور وہ اگلے الیکشن کی صورت میں خود کو عوام کے سامنے محاسبے کے لیے پیش کرتی ہے۔
یوں ہر سیاسی جماعت عوام کے سامنے جوابدہ ہے؛ سوال یہ ہے کہ میڈیا مالکان کس کے آگے جوابدہ ہیں؟ جو نہ حکومت کو جوابدہ ہوں اور نہ عوام کو، انہیں یہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ منتخب حکومت کے مقابل ایک حریف طاقت بن کر کھڑے ہوں؟
لی کوان یو کے نزدیک میڈیا پر تین ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ عوام کو درست اطلاعات فراہم کرے۔ دوسری یہ کہ نسلی، مذہبی یا کسی بھی اور طرح کی کشیدگی کو ہوا نہ دے۔
تیسری یہ کہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرے، مگر ایسی منظم مہم نہ چلائے جو ریاستی استحکام کو نقصان پہنچائے۔ چنانچہ اس کے لیے وہ ہمہ جہت قسم کی میڈیا اصلاحات لائے تھے، جو اس حد تک ہمہ گیر تھیں کہ ٹی وی اور اخبار کو کسی بھی سیاسی لیڈر کا تمسخر اڑانے کی بھی اجازت نہ تھی۔
وہ کہتے تھے کہ کسی بھی ملک کی قومی قیادت اس ملک کی تعمیر و ترقی کا بیڑا اٹھائے چل رہی ہوتی ہے۔ جب آپ انہی کو عوام کی نظر میں مذاق بنائیں گے تو پھر کام کیسے چلے گا؟ یوں لی کوان یو نے اپنے پورے دور میں کسی بھی سیاستدان کا تمسخر اڑانے کی اجازت میڈیا کو بالکل نہ دی۔
ایسا نہیں کہ لی کوان یو نے صرف مقامی میڈیا پر ہی ہاتھ ڈالا تھا۔ اس زمانے میں کئی مغربی اخبارات سنگاپور میں بھی ٹھیک ٹھاک سرکولیشن رکھتے تھے۔
چنانچہ 80 کی دہائی میں لی کوان یو نے سنگاپور میں ’ایشین وال اسٹریٹ جرنل‘ کی سرکولیشن 5000 سے 400، اور ’فار ایسٹرن اکنامک ریویو‘ کی سرکولیشن 9000 سے 500 کر دی تھی۔
اسی طرح مشہور زمانہ امریکی میگزین ’ٹائم‘ کو بھی انہوں نے آڑے ہاتھوں لیا، اور یہ موقف اختیار کیا کہ اگر ’ٹائم‘ سنگاپور کی حکومت کے خلاف کچھ چھاپے گا تو پھر اسے جوابی مضمون بھی شائع کرنا پڑے گا، ورنہ ہم اس کی ایک کاپی بھی سنگاپور میں نہیں آنے دیں گے۔
جب مغربی اور بالخصوص امریکی میڈیا پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس پر مغربی حکومتوں نے انہیں آمر کہنا شروع کر دیا۔ چنانچہ 1988 میں وہ امریکا کے دورے پر گئے اور واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں ایک تاریخی ’میٹ دی پریس‘ کیا۔ اپنے خطاب کی اساس انہوں نے اس جملے کو بنایا:
’مغربی میڈیا مغربی جمہوری اقدار کو عالمگیر سمجھتا ہے، جبکہ ایشیائی معاشروں کی ضروریات اور تاریخی حالات مختلف ہیں۔‘
اور یہاں سے انہوں نے مغربی اقدار کے مقابل ’ایشین اقدار‘ کا تصور پیش کرتے ہوئے استدلال کی پوری طاقت کے ساتھ واضح کیا کہ مشرقی اقوام پر مغربی اقدار تھوپنا ایک غیر معقول اور احمقانہ کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
گفتگو کو اس رخ پر لے جا کر لی کوان یو نے درحقیقت اسے صحافت سے نکال کر کلچر کی سطح پر پھیلا دیا تھا، جس کا امریکی صحافیوں نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ اور جب اس پہلو سے وہ امریکی صحافیوں کو مبہوت کر چکے تو بالکل اچانک گفتگو کو واپس میڈیا کی آزادی کی سطح پر لا کر ایک ’گگلی‘ سامنے بیٹھے صحافیوں کو سوال کی صورت میں کرا دی۔
لی کوان یو نے سوال اٹھایا کہ ’اگر میں سنگاپور کے اخبارات کو امریکہ بھیج دوں اور وہ یہاں منظم مہم چلا کر امریکی عوام کو یہ بتانا شروع کر دیں کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا چاہیے اور کس کو نہیں، تو کیا آپ اسے قبول کریں گے؟ جو حق آپ اپنے لیے نہیں چاہتے، وہ دوسروں پر کیوں مسلط کرنا چاہتے ہیں؟‘
اور یہی وہ سوال تھا جس نے لی کوان یو کے خلاف جاری مغرب کی مہم سے ساری ہوا نکال دی تھی۔ لیکن لی کوان یو محض یہیں نہیں رکے تھے۔ ان کا اگلا سوال اس سے بھی زیادہ بے بس کر دینے والا تھا۔
انہوں نے پوچھا تھاکہ ’میری ذمہ داری مغربی اخبارات کو خوش کرنا نہیں، بلکہ سنگاپور کے عوام کے لیے ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال ملک بنانا ہے۔ اگر میری پالیسیاں غلط تھیں تو سنگاپور غریب، غیر مستحکم اور ناکام ہونے کی بجائے ایشیا کی ایک بڑی معاشی و مالیاتی طاقت کیسے بن گیا؟‘
اگر غور کیجیے تو امریکی و یورپی حکومتیں آج وہی کر رہی ہیں جو لی کوان یو نے سنگاپور میں کیا تھا، اور نوبت اس کی دو وجوہات سے آئی۔ پہلی یہ کہ امریکی صحافت واضح طور پر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن بنیاد پر تقسیم ہو گئی۔
اب وہاں صحافی یا تو ’پٹواری‘ ہوتے ہیں یا ’یوتھیے‘، اور دونوں ہی کیمپ مخالف حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہر حد عبور کرتے ہیں۔ ہم تو ہیں ہی لکیر کے فقیر، سو ہم نے بھی انہی کو کاپی کر کے اپنی صحافت کا جنازہ نکال دیا ہے۔
ہم اب اس طرح کی صحافت سے خود کو متفق نہیں کر پاتے۔ سو ہمارا تصور وہی لی کوان یو والا ہے۔ ہم ایڈیٹوریل بورڈ سے لے کر وزارتِ اطلاعات تک، سب کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ کالم یا کوئی بھی پیس ریجیکٹ کر سکتے ہیں۔
ہم ناجائز پابندی بس اس کو مانتے ہیں کہ حکومت خود پر جائز تنقید بھی نہ ہونے دے اور اسے بس ’مثبت رپورٹنگ‘ کے شہد میں ہی دلچسپی ہو۔
ہم یہ بات بالکل نہیں مانتے کہ صحافی بڑی ذمہ دار ہستی ہوتا ہے۔ ذمہ دار ہستی فقط وہ ہوتا ہے جو ایڈیٹر کی کرسی پر بیٹھ کر روزانہ ردعمل کی یلغار کا سیدھا سامنا کرتا ہے۔
کالم نگار کا کیا ہے، وہ تو ایڈیٹر کی ڈھال کے پیچھے دور کہیں اپنے گھر بیٹھا ہے۔ سو وہ کچھ بھی لکھ کر بھیج سکتا ہے۔ اسی کالم نگار کو آپ ایڈیٹوریل پیج سپرد کر دیجیے، اس کے اپنے کالم کا لب و لہجہ بھی کھڑے کھلوتے بدل جائے گا؛ کیونکہ اب یہ ’فری‘ نہیں رہا۔ جس سیٹ پر یہ آ کر بیٹھا ہے، اس کے تقاضے ہی اس سے ’فری اسپیچ لولی پاپ‘ چھڑا دیں گے!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












