دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کے اخراجات نے گھریلو صارفین کو متبادل حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ عام افراد کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس صورتِ حال میں ایک اسمارٹ بیٹری ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے، جو بغیر سولر پینلز کے بھی بجلی کے اخراجات میں کمی لانے کا دعویٰ کرتی ہے۔
اسمارٹ انرجی اسٹوریج سسٹم کا تصور
یہ نئی ٹیکنالوجی دراصل ایک ’اسمارٹ انرجی اسٹوریج سسٹم‘ ہے، جو خود بجلی پیدا نہیں کرتا بلکہ پہلے سے دستیاب گرڈ بجلی کو مؤثر انداز میں ذخیرہ اور استعمال کرتا ہے۔ اس سسٹم کا بنیادی مقصد صارفین کو بجلی کے مہنگے اوقات میں زیادہ بل ادا کرنے سے بچانا ہے۔
’لوڈ شفٹنگ‘ اور اس کا طریقہ کار
اس بیٹری سسٹم کا بنیادی طریقہ کار یہ ہے کہ یہ بجلی کے کم ریٹ والے اوقات، جیسے رات کے وقت یا ’آف پیک‘ گھنٹوں میں، گرڈ سے بجلی حاصل کر کے اسے اپنے اندر محفوظ کر لیتی ہے۔
بعد میں یہی ذخیرہ شدہ بجلی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب دن کے وقت یا ’پیک آورز‘ میں بجلی کے ریٹ زیادہ ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس عمل کو توانائی کی زبان میں ’لوڈ شفٹنگ‘ یا ’انرجی آربٹریج‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ صارف مہنگی بجلی خریدنے کے بجائے پہلے سے سستی بجلی استعمال کر لیتا ہے، جس سے مجموعی بل میں کمی آ سکتی ہے۔
کرائے کے گھروں اور فلیٹس کے لیے موزوں
سولر انسٹالیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماہر محمد گلباز کہتے ہیں کہ یہ سسٹم خاص طور پر ان افراد کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے جو کرائے کے گھروں یا فلیٹس میں رہتے ہیں اور سولر پینلز نصب نہیں کر سکتے۔
اسی طرح وہ صارفین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو سولر سسٹم میں بڑی ابتدائی سرمایہ کاری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اگر یہ بیٹری مناسب طریقے سے استعمال کی جائے تو بجلی کے بل میں تقریباً 10 سے 30 فیصد تک کمی ممکن ہے۔
تاہم یہ بچت بجلی کے ریٹس میں فرق، بیٹری کی گنجائش اور گھریلو استعمال کے انداز جیسے عوامل پر منحصر ہے۔
ٹیکنالوجی کی حدود اور مستقبل
سولر ایکسپرٹ انجینئر نور بادشاہ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سولر سسٹم کا متبادل نہیں ہے، کیونکہ یہ خود بجلی پیدا نہیں کرتی بلکہ صرف ذخیرہ اور انتظام کرتی ہے۔
اگر بجلی کے ریٹس میں زیادہ فرق موجود نہ ہو تو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ بھی کم ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اسمارٹ انرجی مینجمنٹ کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں جیسے جیسے اسمارٹ گرڈ سسٹمز عام ہوں گے اس طرح کی بیٹریاں توانائی کے اخراجات کم کرنے میں مزید اہم کردار ادا کریں گی۔
لیتھیم بیٹریوں کی اقسام اور اخراجات
سولر انرجی ایکسپرٹ محمد حمزہ رفیع کے مطابق بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے متعارف کرائی جانے والی یہ ٹیکنالوجی دراصل لیتھیم آئن اور بالخصوص ’لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں پر مبنی انرجی اسٹوریج سسٹم ہے۔ یہ بیٹریاں کم نرخوں والے اوقات میں گرڈ سے بجلی ذخیرہ کر کے بعد میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
محمد حمزہ رفیع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس نوعیت کی بیٹریاں مختلف گنجائشوں اور برانڈز میں دستیاب ہیں۔ عام طور پر 5 کلو واٹ آور صلاحیت کی لیتھیم بیٹری کی قیمت تقریباً 2 سے 3 لاکھ روپے، جبکہ 10 کلو واٹ آوربیٹری کی قیمت 3.5 سے 5.5 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
اگر بیٹری کے ساتھ ہائبرڈ انورٹر اور دیگر ضروری آلات بھی شامل کیے جائیں تو مکمل سسٹم کی لاگت کئی لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ سسٹم سولر انرجی کا متبادل نہیں ہے، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی بچت کا انحصار بجلی کے نرخوں، صارف کے استعمال اور بیٹری کے سائز پر ہوتا ہے۔













