یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے تباہی مچا دی ہے، جہاں اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ فرانس نے بڑھتے ہوئے طبی دباؤ کے پیش نظر شراب کی فروخت اور عوامی مقامات پر اس کے استعمال پر جزوی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
دوسری جانب اسپین میں گرمی کی شدت مزید خطرناک ثابت ہوئی، جہاں سرکاری نگرانی کے نظام کے مطابق 21 جون سے اب تک 212 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ میں شدید ہیٹ ویو، درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا
ہلاک ہونے والوں میں اکثریت 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی ہے، کیونکہ بڑھاپے میں جسم کی حرارت خارج کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
اسپین کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا، جبکہ 22 اور 23 جون 1950 کے بعد ملک کے گرم ترین دن قرار دیے گئے۔
LATEST: 🇪🇸 A severe four day heatwave has been linked to 212 deaths in Spain.
Temperatures are now more than 40°C. pic.twitter.com/84ScsmIF9v
— Global Markets (@globalmarketss) June 25, 2026
شدید گرمی کی یہ لہر صرف فرانس اور اسپین تک محدود نہیں بلکہ برطانیہ، جرمنی، سویڈن، اٹلی اور بیلجیئم بھی غیر معمولی درجہ حرارت کی لپیٹ میں ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیرس انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے جمعہ 26 جون سے دوپہر کے وقت سے شراب کی ٹیک اوے فروخت اور عوامی مقامات پر اس کے استعمال پر پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: یورپ میں شدید ہیٹ ویو نے ایئرکنڈیشنر ساز ایشیائی کمپنیوں کی جیب گرم کردی
تاہم بارز اور ریسٹورنٹس میں شراب کی خرید و فروخت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
پیرس پولیس چیف پیٹریس فور نے کہا کہ شدید گرمی کے باعث اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور طبی سہولیات اپنی گنجائش کی آخری حد تک پہنچ چکی ہیں۔

فرانس میں حالیہ دنوں کے دوران درجہ حرارت 39 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق گرمی سے بچنے کے لیے جھیلوں، تالابوں اور دریاؤں میں نہاتے ہوئے کم از کم 55 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق فرانس میں 5 سال سے کم عمر 4 بچے شدید گرمی کے دوران بند گاڑیوں میں پھنس جانے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
جرمنی میں آئندہ چند روز کے دوران درجہ حرارت 36 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ لندن میں بھی درجہ حرارت تقریباً 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا خدشہ ہے۔
Europe just recorded its hottest and most humid heatwave in history. Scientists completed the attribution study in days. The conclusion was direct: this event would not have been possible in June without climate change.
A stalled high-pressure system drew hot, dry Saharan air… pic.twitter.com/smf14OosUX
— The Modern Pulse (@manavspeakfacts) June 26, 2026
ماہرین کے مطابق گرمی کی یہ لہر اب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے اور آئندہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ، جمہوریہ چیک، آسٹریا، کروشیا، سربیا اور وسطی و مشرقی یورپ کے دیگر ممالک بھی اس سے شدید متاثر ہوں گے۔
ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن سے وابستہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یورپ میں آنے والی یہ غیر معمولی گرمی بنیادی طور پر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی یعنی گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے۔












