افریقی ملک برکینا فاسو کی فوجی حکومت نے سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پیرس مسلسل ملکی مفادات کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔
برکینا فاسو کی حکمران فوجی حکومت نے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ 26 جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
برکینا فاسو کی حکومت نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ فرانس نام نہاد نوآبادیاتی عزائم رکھتا ہے اور ایسے عناصر کی حمایت کر رہا ہے جو ملک اور خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
JUST IN: 🇧🇫🇫🇷 Burkina Faso officially cuts all diplomatic relations with France. pic.twitter.com/zuuCWW2kkQ
— BRICS News (@BRICSinfo) June 27, 2026
فوجی حکومت کے مطابق سفارتی تعلقات کا خاتمہ دونوں ممالک کے درمیان صرف سرکاری اور سفارتی سطح کے روابط سے متعلق ہے، جبکہ برکینا فاسو اور فرانسیسی عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سماجی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔
برکینا فاسو میں 2022 میں فوجی بغاوت کے بعد کیپٹن ابراہیم تراورے کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی، جس نے مغربی ممالک بالخصوص فرانس کے ساتھ تعلقات میں نمایاں کمی کی پالیسی اپنائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی افریقہ کی اے آئی پالیسی کینسل، مصنوعی ذہانت کا کونسا کارنامہ اس کی وجہ بنا؟
برکینا فاسو گزشتہ کئی برسوں سے القاعدہ اور داعش سے منسلک شدت پسند گروہوں کے حملوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث ملک میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے۔
فرانس کبھی افریقہ کے کئی ممالک میں مضبوط سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ رکھتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں کئی افریقی ممالک میں فرانس مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور روس و چین سمیت دیگر عالمی طاقتوں کا اثر بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق برکینا فاسو کا یہ اقدام افریقہ میں بدلتے ہوئے سفارتی منظرنامے کی ایک اور علامت ہے جہاں سابق نوآبادیاتی تعلقات کی جگہ نئے عالمی شراکت دار ابھر رہے ہیں۔













