جنگ بندی کے باوجود گولہ باری، ایران اور امریکا کی جانب سے ایک دوسرے پر امن معاہدہ توڑنے کا الزام

اتوار 28 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان 2 ہفتے قبل طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے باوجود خلیجی خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے تازہ فوجی کارروائیاں کی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ‘فوجی کارروائی مکمل کرنے’ کی دھمکی کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے اتوار کی علی الصبح کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، ایران میں نئی کشیدگی: حتمی امن معاہدے کو کتنا خطرہ ہے؟

کویتی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے دشمنانہ حملوں کا مقابلہ کیا، جبکہ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے حالیہ امریکی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکی اہلکاروں کے جانی نقصان یا فوجی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے جنوبی ایران میں متعدد فوجی اہداف پر تازہ حملے کیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔

جس میں نگرانی، مواصلاتی نظام، فضائی دفاع، ڈرون ذخائر اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھنے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے جنوبی شہر سیریک میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی ایران کو ’کام مکمل کرنے‘ کی دھمکی، خطے میں کشیدگی پھر بڑھ گئی

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اس کے نتیجے میں تمام سفارتی عمل مکمل طور پر معطل ہو جائے گا۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو آئندہ دنوں میں ‘سنگین نتائج’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی عبوری معاہدہ 2 ہفتے قبل طے پایا تھا، جس کا مقصد 4 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر تنازعات پر مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔

معاہدے کے تحت ایک دور کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ہوئے تھے.

جس کے بعد واشنگٹن نے تہران پر عائد بعض پابندیوں میں بھی نرمی کی تھی، تاہم اس کے باوجود فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو کر مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو امریکا ‘فوجی کارروائی مکمل کرنے’ پر مجبور ہو سکتا ہے، اور ایسی صورت میں ‘اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔’

ادھر آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل ایک بار پھر خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔

اگرچہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران بحری آمدورفت جزوی طور پر بحال ہوئی تھی اور تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ گئی تھیں، تاہم تازہ کشیدگی نے دوبارہ عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

دریں اثنا ایران نے لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے سے متعلق امریکا پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل کارروائیوں اور جنوبی لبنان سے انخلا سے انکار کے باعث خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ حزب اللہ بھی اسرائیلی افواج کی موجودگی تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کر چکی ہے

۔ اس صورتحال کے باعث لبنان میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی واپسی بھی تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی