امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا ایران میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن کو مکمل کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان حملوں اور الزامات کا سلسلہ دوبارہ تیز ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران میں جاری صورتحال پر اپنا ردعمل بڑھا سکتا ہے۔
🚨Update: President Trump threatens to destroy Iran, again. Sounds like a nuclear strike on Tehran. Several nuclear strikes! pic.twitter.com/YuIs3BxEtK
— WWG1WGA🇺🇸❤️ (@WWG1WGA_1Q) June 28, 2026
ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکی طیاروں نے ایران میں میزائل اور ڈرونز کے ذخیرہ مراکز اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ایران اپنی پالیسی تبدیل نہ کرے، جس کے بعد امریکا کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچے۔
یہ بھی پڑھیں:گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حالات اسی طرح جاری رہے تو امریکا اس فوجی کارروائی کو مکمل کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جبکہ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ایران کے موجودہ نظام کا وجود برقرار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ایران اور امریکا میں حملوں اور الزامات کا سلسلہ جاری
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
🚨Update: Iran launches ballistic missiles and attack drones at 8 US bases across the Middle East! Iran declares ‘revenge’ against what they call ‘US violations of the Ceasefire Agreement!’ pic.twitter.com/7yKLai38DM
— US Homeland Security News (@defense_civil25) June 28, 2026
امریکی حکام کے مطابق صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی امریکی اہلکار کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کے خلاف مزید کارروائی کی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ لڑائی روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم حالیہ واقعات کے بعد یہ معاہدہ ایک بار پھر دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔














